انوارالعلوم (جلد 26) — Page 219
انوار العلوم جلد 26 219 مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع۔۔خدا تعالیٰ کے سامنے اس کے ازالہ کے لئے دعا کرتا رہے۔غرض سورۃ نازعات میں خدا تعالیٰ نے بتایا ہے کہ مومن وہی ہے جو اپنے کام میں اس طرح محو ہو جائے کہ اسے اپنے گرد و پیش کا بھی علم نہ رہے۔گردو پیش سے ہٹ کر اپنے کام میں محو ہو جانے والا ہی سچا مومن اور اصل صداقت کو کھینچ لانے والا ہوتا ہے۔لیکن جو شخص قرآن کریم پڑھتا ہے اور اس کا دماغ کسی اور طرف متوجہ ہوتا ہے وہ سورۃ نازعات میں بیان کردہ صداقت پر عمل نہیں کرتا۔سورۃ نازعات پر وہی شخص عمل کرتا ہے جو نماز پڑھتا ہے یا دعا کرتا ہے یا قرآن کریم پڑھتا ہے تو اس میں اتنا غرق ہو جاتا ہے کہ اُسے یہ علم تک نہیں ہوتا کہ اُس کے گردو پیش کیا ہو رہا ہے۔اگر یہ کیفیت کسی کو نصیب نہیں ہوتی تو اُس کی وہی حالت ہوتی ہے جو ایک دنیا دار ملاں کی تھی۔کہتے ہیں حضرت باوانا نک رحمۃ اللہ علیہ سفر کرتے ہوئے ایک جگہ پہنچے تو نماز ہو رہی تھی۔وہ بھی نماز میں شامل ہو گئے۔لیکن تھوڑی دیر کے بعد نماز توڑ کر بیٹھ گئے۔حضرت با با نا نک روحانی آدمی تھے اور امام الصلوۃ کوئی دنیا دار آدمی تھا۔جب نماز ہو چکی تو کسی نے دریافت کیا کہ آپ نے نماز کیوں توڑ دی تھی ؟ انہوں نے کہا۔مولوی صاحب نماز پڑھاتے پڑھاتے پہلے جہلم کی طرف چلے گئے ، پھر گجرات کی طرف چلے گئے ، پھر انہوں نے بھینس خریدی اور اس کا دودھ بیچا۔پھر اور بھینسیں خریدیں اور ان کا دودھ بیچا اور آخر ان کی آمد سے ایک محل تیار کیا۔میں ایک کمزور انسان ہوں۔میں ان کے پیچھے پیچھے کیسے چلتا۔میں تو تھک کر الگ ہو گیا۔حقیقت یہ تھی کہ جب امام نماز پڑھا رہا تھا تو اس کے دل میں خیال آیا کہ کل عید کا دن ہے لوگ مجھے عیدی دیں گے۔میں اس سے ایک بھینس خریدوں گا مگر اچھی بھینس یہاں سے نہیں مل سکتی اس لئے کہیں باہر جاؤں گا۔چنانچہ پہلے جہلم کا خیال آیا۔پھر سوچا کہ ممکن ہے جہلم میں اچھی بھینس نہ ملے بہتر ہے کہ گجرات چلیں وہاں سے امید ہے کہ اچھی سی بھینس مل جائے گی۔پھر اس کی آمد سے ایک اور بھینس خریدوں گا۔جب بہت سی بھینسیں جمع ہو جائیں گی تو ان کی آمد سے ایک کوٹھی تیار کروں گا۔وہ نماز پڑھا رہا تھا اور یہ خیالات اُس کے دماغ میں چکر لگا رہے تھے حضرت باوا نا نک پر -