انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 218 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 218

انوار العلوم جلد 26 218 مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع۔۔سامنے اُن کے گھروں کو آگ لگ جاتی ہے تو انہیں اس کا علم تک نہیں ہوتا اور وہ دوسروں سے پوچھتے ہیں کہ کیا ہو گیا۔اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ وہ کسی اور کام میں اتنے محو ہوتے ہیں کہ انہیں کسی دوسری چیز کا علم ہی نہیں ہوتا۔یہ محویت مختلف لوگوں میں مختلف رنگوں میں دکھائی دیتی ہے۔ڈاکٹر ڈانسن جنہوں نے انگریزی میں لغت لکھنی شروع کی تھی ان کے متعلق ان کے ایک دوست جو مشہور مصنف ہیں لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ میں اُس جگہ گیا جو ڈاکٹر ڈانسن کو بہت پسند تھی اور میں نے دیکھا کہ بارش ہو رہی ہے اور ڈاکٹر ڈانسن اپنا ہاتھ باہر نکالے کھڑا ہے۔میں نے اُس سے کہا۔ڈاکٹر ! یہ تم کیا کر رہے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ میں شام کے بعد سے یہاں کھڑا ہوں اور روزانہ یہاں آ کر کھڑا ہوتا ہوں۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے ایک دفعہ کوئی غلطی کی تو میرے باپ نے مجھے سزا کے طور پر یہاں کھڑا کیا تھا۔میں نے اس سزا کو بہت بُرا محسوس کیا اور سزا قبول کرنے کی بجائے میں کہیں باہر چلا گیا۔اب جب میں بڑھا ہو گیا ہوں تو مجھے یاد آتا ہے کہ اگر میں اپنے باپ کی بات مان لیتا تو اچھا تھا میں اس غلطی کا کفارہ ادا کرنے کے لئے روزانہ یہاں آتا ہوں۔تو دیکھو جن لوگوں کے دلوں میں احساس ہوتا ہے کہ انہوں نے کوئی غلطی کی ہے یا یہ کہ ان کا کوئی فعل خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں غلطی کہلائے گا تو وہ اس کا کفارہ ادا کرتے ہیں۔آپ لوگوں کو بھی اگر کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو خدا تعالیٰ سے دعا کیا کریں کہ وہ اسے دور کرے۔لیکن اس تکلیف کے وقت دوسروں کو بلانا ایسا ہی ہوتا ہے جیسے کوئی ماں اپنے بچے کو مارے تو وہ محلہ والوں کو بلانا شروع کر دے۔اگر وہ بچہ ماں کے مارنے کی وجہ سے روتا ہے تو ٹھیک ہے لیکن اگر وہ کہتا ہے محلہ والو! دوڑ و اور مجھے میری ماں سے بچاؤ تو یہ درست نہیں ہوتا۔اس طرح اگر تمہیں کوئی بات تکلیف دیتی ہے تو خدا تعالیٰ کے آگے گڑ گڑاؤ اور اُس سے دعا کرو لیکن اگر کسی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے اور وہ دوسروں کے آگے واویلا شروع کر دیتا ہے تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ وہ لوگوں میں خدا تعالیٰ کا شکوہ کرتا ہے اور اُس کی رضا پر راضی رہنا پسند نہیں کرتا۔صحیح طریق یہی ہوتا ہے کہ وہ اس تکلیف کو برداشت کرے اور