انوارالعلوم (جلد 26) — Page 217
انوار العلوم جلد 26 217 مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع۔۔نے یہ نظارہ دیکھا تو کہنے لگا عثمان ! کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ تم میری پناہ واپس نہ کرو۔مکہ والے تمہیں تنگ کریں گے لیکن تم نے میری بات نہ مانی اور پناہ واپس کر دی اب تم نے اس کا نتیجہ دیکھ لیا کہ تمہاری ایک آنکھ ضائع ہو گئی ہے۔حضرت عثمان بن مظعون نے کہا آخر ہوا کیا خدا کی قسم ! میری تو دوسری آنکھ بھی چلا چلا کر کہ رہی ہے کہ خدا تعالیٰ کے رستے میں مجھے بھی پھوڑ دو 7۔یہ ان لوگوں کی کیفیت تھی جو اسلام کی راہ میں دکھ اٹھانے میں ایک فخر اور لذت محسوس کرتے تھے۔یہی طریق آپ لوگوں کا ہونا چاہئے۔اگر آپ لوگوں کو کوئی دکھ پہنچے تو رویا چلایا نہ کریں۔جماعت کے بعض دوست ایسے ہیں کہ اگر انہیں کوئی گالی بھی دے دے تو وہ مجھے لکھنا شروع کر دیتے ہیں کہ ہم بہت سے مصائب میں مبتلا ہیں اور تحقیق پر معلوم ہوتا ہے کہ وہ کہیں جارہے تھے کہ رستہ میں آواز آئی کہ مرزائی بڑے کا فر ہیں۔لیکن حضرت عثمان بن مظعون کی آنکھ نکل جاتی ہے ، تکلیف سے وہ نڈھال ہورہے ہوتے ہیں لیکن کہتے ہیں خدا کی قسم ! میری تو دوسری آنکھ بھی اس بات کا انتظار کر رہی ہے کہ کوئی دشمن اسے بھی پھوڑ دے۔حضرت عثمان بن مظعون کے اس شاندار فقرہ کا یہ اثر تھا کہ جب آپ فوت ہوئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی پیشانی کا بوسہ لیا اور آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔پھر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے حضرت ابراہیم فوت ہوئے تو آپ نے فرمایا جا اپنے بھائی عثمان بن مظعون کے پاس۔گویا آپ نے حضرت عثمان بن مظعون کو اپنا بیٹا قرار دیا اور اُن کی یا دکو ایک لمبے عرصہ تک قائم رکھا۔تو دین کی راہ میں جو مصائب آئیں ان کا نتیجہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ آپ لوگ ہمت ہار کر بیٹھ جائیں بلکہ ان کے نتیجہ میں اور زیادہ زور سے کام کرنا چاہیے۔سورۃ نازعات جس کی چند آیات میں نے ابھی پڑھی ہیں اللہ تعالیٰ نے یہی بیان فرمایا ہے کہ مومن وہی ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنا سارا زور لگا دیتا ہے اور جس کام میں وہ لگا ہوا ہوتا ہے اس میں وہ غرق ہو جاتا ہے۔اگر واقع میں کوئی ایسی جماعت ہو تو اس کو کیا پتا لگ سکتا۔کہ اس کے ارد گرد کیا ہو رہا ہے۔دنیا میں ہمیں کئی لوگ ایسے نظر آتے ہیں کہ جن کے ہے