انوارالعلوم (جلد 26) — Page 216
انوار العلوم جلد 26 216 مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع۔۔قبیلے سے لڑنا پڑتا تھا۔لیکن جب وہ اپنی پناہ واپس لے لیتا تو یہ قید اُٹھ جاتی۔عرب کا ایک مشہورشاعرلبید گزرا ہے وہ بعد میں اسلام بھی لے آیا اور اُس نے 170 سال کی عمر پائی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی وہ ایک لمبے عرصہ تک زندہ رہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی میں اس سے شعر سنا کرتے تھے اور صحابہ میں سے بھی جس کسی کو کوئی رتبہ ملتا وہ اُسے بلاتے ، اس سے شعر سنتے اور اُسے انعام دیتے۔جس حضرت عثمان بن مظعون نے پناہ واپس کر دی تو ایک دن لبید مکہ میں آیا اور اس نے ایک محفل میں شعر سنانے شروع کئے۔حضرت عثمان بن مظعون بھی وہاں پہنچ گئے۔محفل میں بڑے بڑے رؤساء بیٹھے ہوئے تھے اور سب لوگ لبید کو داد دے رہے تھے۔شعر پڑھتے پڑھتے لبید نے یہ مصرع پڑھا کہ الا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ یعنی اے لوگو! اچھی طرح سن لو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز تباہ ہونے والی ہے۔اس پر حضرت عثمان بن مظعون کہنے لگے ”صَدَقْتَ لبید تو نے سچ کہا ہے۔لبید کو یہ بات بہت بُری لگی کہ وہ اتنا بڑا شاعر ہے اور یہ نوعمر نوجوان اُسے داد دے رہا ہے۔لیکن اُس نے زبان سے کچھ نہ کہا اور یہ دوسرا مصرع پڑھ دیا کہ وَكُلُّ نَعِيمِ لَا مَحَالَةَ زَائِلٌ یعنی ہر نعمت آخر تباہ ہو جانے والی ہے۔حضرت عثمان بن مظعون پھر بول پڑے اور کہنے لگے گــذبـت ، تو نے جھوٹ بولا ہے۔جنت کی نعمتیں کبھی تباہ نہیں ہوں گی۔لبید کو اس بات سے آگ لگ گئی اور اُس نے کہا۔مکہ والو ! تم کب سے بداخلاق ہو گئے ہو؟ پہلے تو اس نوجوان نے مجھے داد دی اور پھر اس نے مجھے جھوٹا کہا۔میں اس کے باپ کے برابر ہوں۔اس کے لئے مجھے جھوٹا کہنا جائز نہیں تھا۔کیا تم اپنے بڑوں کی ہتک کرنے لگ گئے ہو ؟ مکہ والوں نے چونکہ اُسے خود بُلایا ہوا تھا اس لئے اُس کی اس تقریر سے اشتعال پیدا ہو گیا اور ایک نوجوان نے غصہ میں حضرت عثمان بن مظعون کی آنکھ پر مگا مارا۔جس سے ان کی ایک آنکھ پھوٹ گئی۔انہیں پناہ دینے والا شخص وہیں موجود تھا۔اُس