انوارالعلوم (جلد 26) — Page 116
انوار العلوم جلد 26 116 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت بھی نہیں آنے دے گا۔جب 1955ء میں مجھ پر فالج کا حملہ ہوا تو یہ بغض اور زیادہ زور سے ظاہر ہونے لگا جیسا کہ شیخ نصیر الحق صاحب کی گواہی سے ظاہر ہے جو ذیل میں درج کی جاتی ہے۔مکرم شیخ نصیر الحق صاحب کی گواہی شیخ صاحب لکھتے ہیں:۔وو لمصل حضرت۔۔۔۔۔۔۔الصلح الموعود خليفة لمسیح الثاني سید نا وامامنا حضرت ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَ رَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ جب حضور لاہور سے کراچی تشریف لے گئے دوسرے دن شام کو آپ کی خیریت سے کراچی پہنچنے کی اطلاع حاصل کرنے کے لئے سمن آباد سے رتن باغ پہنچا۔میرے ساتھ میری چھوٹی بیوی بھی تھی۔انہیں رتن باغ ٹھہرا چونکہ یہاں اطلاع کوئی نہیں ملی تھی میں جو د ہامل بلڈنگ میں گیا۔لوگ مغرب کی نماز ادا کر چکے تھے اور حضور کی خیریت سے کراچی پہنچنے کے متعلق گفتگو کر رہے تھے۔میں مزید حالات معلوم کرنے کے لئے سید بہاول شاہ صاحب کی طرف متوجہ ہوا۔انہوں نے تار کا ذکر کیا کہ الْحَمْدُ لِلهِ حضور بخیریت تمام کراچی پہنچ گئے ہیں۔جب میں واپس رتن باغ کو لو ٹنے لگا تا اپنی بیوی کو ساتھ لے کر گھر سمن آباد چلا جاؤں مولوی عبدالوہاب صاحب نے مجھے آواز دی کہ حاجی صاحب ! ٹھہر جائیں میں بھی چلتا ہوں۔مولوی صاحب نے فرمایا کہ حاجی صاحب ! آپ نے دیکھا کہ قوم کا کتنا روپیہ خرچ ہو رہا ہے؟ میں نے عرض کیا مولوی صاحب ! حضرت صاحب تو فرماچکے ہیں کہ میں اپنا خرچ خود برداشت کروں گا پھر اعتراض کیسا؟ فرمانے لگے آگے تو سنو ! میں نے کہا فرمائیے۔کہنے لگے کہ دیکھو