انوارالعلوم (جلد 26) — Page 117
انوار العلوم جلد 26 117 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت اب خلیفہ تو ( نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَالِکَ ) اپنا دماغ کھو چکا ہے وہ اس قابل نہیں کہ خلیفہ رکھا جاسکے۔میں بجبر خاموش رہا تا سارا ماجرا سُن سکوں اور جو گفتگو یہ کرنا چاہتے ہیں وہ رہ نہ جائے۔میں نے کہا مولوی صاحب ! بھلا یہ تو بتائیے کہ اب اور کون خلیفہ ہوسکتا ہے؟ کہنے لگے کہ میاں بشیر احمد صاحب اور چودھری ظفر اللہ خاں صاحب کیا کم ہیں۔اب میں نہیں رہ سکا تو میں نے کہا مولوی صاحب ! آپ تو ایک بہت بزرگ ہستی کے فرزند ہیں آپ کو اتنا بھی علم نہیں کہ ایک خلیفہ کی موجودگی میں دوسرا خلیفہ نہیں ہو سکتا۔اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ حضور کو جلد صحت عطا فرمائے۔مولوی صاحب فرمانے لگے کہ بھئی اب تو یہ ممکن ہی نہیں۔میں نے یہ بھی کہا کہ ایک خلیفہ کی موجودگی میں دوسرا خلیفہ بنانا تو کجا خیال کرنا بھی گناہ ہے چہ جائیکہ آپ ایسی باتیں کر رہے ہیں اور میرے لئے یہ امر نہایت تکلیف دہ ہو گیا ہے۔۔۔۔پھر فرمانے لگے سنوسنو! میں نے عرض کیا کہ چونکہ میں نے سمن آباد جانا ہے اور نیلا گنبد سے بس لینی ہے اس لئے کچھ اور کہنا ہے تو چلتے چلتے بات کیجئے۔کہنے لگے دیکھو یہ جو مضامین آج کل چھپ رہے ہیں انہیں میاں بشیر احمد صاحب درست کر کے پریس کو بھیجتے ہیں۔وہ خود تو لکھ ہی نہیں سکتے۔پھر یہ عجیب بات ہے کہ انہی میاں صاحب کو حضرت صاحب اپنے کمرہ میں سلاتے ہیں۔میں اِس معمہ کو نہیں سمجھ سکا۔اسکے علاوہ بھی اور کئی ایسی باتیں کہیں جو میں بھول گیا۔۔۔۔۔۔میں نے اگلے دن سارا واقعہ چودھری اسد اللہ خان صاحب کو ہائی کورٹ میں جا کر سنایا۔انہوں نے فرما یا لکھ دو۔میں نے وہیں بیٹھ کر لکھ دیا جو مجھے اُس وقت یاد تھا۔چودھری صاحب نے فرمایا کہ آپ مولوی صاحب کے سامنے بھی یہی بیان دیں گے؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو لکھ دیا ہے، آپ میرے ساتھ جو دھامل بلڈنگ چلیں اور انہیں