انوارالعلوم (جلد 26) — Page 115
انوار العلوم جلد 26 115 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت ہوئے ان دونوں حضرات کے متعلق یہ لفظ میاں عبدالمنان صاحب نے کہے کہ دیکھو ! کس طرح ان لوگوں کا خون سفید ہو گیا ہے۔4۔میاں عبدالمنان صاحب جب امریکہ گئے تو امریکہ جانے کی حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی طرف سے اجازت ملنے کے متعلق میری بیوی سے ذکر کرتے ہوئے امتہ الرحمن صاحبہ اہلیہ میاں عبدالمنان صاحب نے حضور کے متعلق یہ کہا کہ انہوں نے اجازت تو دے دی ہے مگر اس بابل دا کی اعتبار ہے کہ ڈولے پاکے بھی کڑھ لئے۔“ خاکسار محمد احمد جلیل اس فتنہ کو مزید ہوا شیطان نے اس طرح دی کہ خدام الاحمدیہ میں جب ناصر احمد افسر تھا تو اُس نے حمید ڈاڈھا کو سگریٹ پیتے ہوئے دیکھا اور اُس نے اس کو سزا دینی چاہی۔اس پر وہ اس کے مخالف ہو گیا۔چنانچہ حافظ عبداللطیف صاحب اور اخوند فیاض احمد صاحب کی شہادتیں اس بارہ میں ہمارے پاس محفوظ ہیں جنہوں نے لکھا ہے کہ یہ اُسی وقت سے مرزا ناصر احمد صاحب کے خلاف بغض و عناد کا اظہار کرتا رہتا تھا۔پھر چونکہ جلسہ سالانہ کا کام کئی سال تک میاں عبدالمنان کے سپرد ہوتا رہا ہے اس لئے وہ سلسلہ کے روپیہ میں سے اپنے ان ایجنٹوں کو پیشکیاں بھی دیتے رہے۔چنانچہ ریکارڈ سے مولوی علی محمد اجمیری کے نام 87 روپے 8 آنے ، حمید ڈاڈھا کے نام 35 روپے اور غلام رسول چک نمبر 35 کے نام 50 روپے پیشگی دیئے جانے ثابت ہیں۔اس طرح نفرت اور لالچ دونوں جذبات اکٹھے ہو گئے اور ان لوگوں نے میاں عبد المنان کی تائید میں پرو پیگنڈا شروع کر دیا۔جس طرح بعض منافقوں نے حضرت عمرؓ کی زندگی میں پرو پیگنڈا شروع کیا تھا کہ جب حضرت عمر فوت ہوں گے تو ہم فلاں کی بیعت کریں گے۔لیکن وہ بھی خائب و خاسر رہے اور یہ بھی خائب و خاسر رہیں گے اور اللہ تعالیٰ خلافت احمدیہ کی خود حفاظت کرے گا اور جماعت کی خود راہنمائی کرے گا اور وہ کبھی ان منافقوں یا پیغامیوں کے چیلوں یا احراریوں کے چیلوں کو قریب