انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 112

انوار العلوم جلد 26 112 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت۔آگے بڑھے اور میرے سینہ کی طرف ہاتھ بڑھا کر ہلایا اور کہا ملک صاحب ! آپ گھبرائیں نہیں۔ہم جہاں بھی جائیں گے آپ کو ساتھ لے کر جائیں گے۔وہ کہتے ہیں اُس وقت تو میں اس کا مطلب نہ سمجھا لیکن گھبرا گیا اور بعد میں جب یہ فتنہ پیدا ہوا تو میں با قاعدہ اخبار میں دیکھتا تھا کہ اس میں میاں عبدالمنان کا نام بھی آتا ہے یا نہیں۔جب میں نے ان کا نام پڑھا تو استغفار پڑھا کہ ان کی یہی غرض تھی کہ مجھے بھی اس فتنہ میں ملوث کریں۔ملک صاحب سرگودھا کے مشہور خاندان ٹوانہ اور نون میں سے ہیں اور ڈپٹی کمشنر رہ چکے ہیں۔گوجرانوالہ سے ریٹائر ہوئے۔ملک فیروز خاں صاحب نون جو اس وقت وزیر خارجہ ہیں اُن کے بھتیجے ہیں۔چنانچہ ملک صاحب کا اصل خط اس شہادت کے سلسلہ میں ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔ملک صاحب لکھتے ہیں:۔مکرم ملک صاحب خان صاحب نون کی شہادت "سرگودھا 17/9/1956 میرے آقا ! سَلَّمَهُ اللَّهُ تَعَالَى السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ اللہ تعالیٰ آپ کو صحت کاملہ اور عمر خضر عطا فرمائے۔امِيْنَ ثُمَّ ا مِيْنَ۔چونکہ حضور پر نور امام الوقت اور خلیفہ وقت ہیں اللہ تعالیٰ کی نصرت حضور کی تائید میں ہے اور اِنْشَاءَ اللهُ تَعَالٰی ہمیشہ رہے گی اور دشمنان خائب و خاسر اور منہ کی کھائیں گے۔اِنْشَاءَ اللهُ تَعَالٰی ضرور ضرور۔میں ایک واقعہ حضور کی خدمت بابرکت میں گوش گزار کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ گواہ ہے کہ اس میں ذرہ بھر بھی شک وشبہ نہیں بلکہ عین اصل واقعہ ہے۔جب میں نے ربوہ والے مکان کی جگہ کے متعلق حضور پرنور کے پاس شکایت کی اور حضور نے اپنے ساتھ کچے مکانوں میں مجھے اور ناظر متعلقہ ( جو اُس وقت غالباً عبدالرشید صاحب تھے ) کو بلایا۔میں نے حاضر ہوکر عرض کیا کہ مجھے شکایت نہیں ہے۔جس کی وجہ یہ تھی کہ ایک تو حضرت میاں بشیر احمد صاحب نے بہت زور دیا کہ یہی جگہ لے لوں اور دوسرے یہ کہ