انوارالعلوم (جلد 26) — Page 111
انوار العلوم جلد 26 رہے۔111 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت یہ جو عبدالقدوس صاحب نواب شاہ کی گواہی ہے کہ میاں عبدالوہاب صاحب نے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی اولاد کے لئے دنیا مانگی اور ہمارے باپ نے ہمارے لئے دین مانگا، اس کی مزید شہادت لاہور کی مجلس خدام الاحمدیہ نے بھجوائی ہے کہ ایک احمدی سے ایک پیغامی نے آ کر کہا کہ میاں منان کہتے ہیں کہ ہم تو چُپ کر کے بیٹھے ہیں کیونکہ ہمارے باپ نے ہمیں خدا کے سپرد کیا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السّلام نے اپنی اولاد کو دنیا کے سپرد کیا تھا۔یہ جوش نکال لیں۔سال، دو سال، پانچ سال خوب جوش نکالیں پھر ٹھنڈے ہو جائیں گے۔یہ شہادت بھی ہمارے پاس محفوظ ہے۔اب تم جو مبائعین کی جماعت ہو اور جنہوں نے لکھا تھا کہ قیامت تک ہم خلافت احمدیہ کو قائم رکھیں گے تم بتاؤ کہ کیا مولوی عبدالمنان کے قول کے مطابق دو تین سال میں ٹھنڈے پڑ جاؤ گے یا قیامت تک تمہاری اولادیں خلافت احمدیہ کا جھنڈا کھڑا رکھیں گی ؟“ اس پر چاروں طرف سے آوازیں آئیں کہ ہم قیامت تک خلافت احمدیہ کا جھنڈا کھڑا رکھیں گے۔اکتوبر 1955ء میں جب صوفی مطیع الرحمن صاحب شدید ذیا بیطس سے فوت ہوئے تو رشید احمد صاحب بٹ ضلع نواب شاہ سندھ کی گواہی کے مطابق میاں عبد السلام نے کہا کہ صوفی مطیع الرحمن صاحب کا علاج نہیں کروایا گیا اس لئے مر گئے۔حالانکہ ان کو ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا اور سینکڑوں روپیہ سلسلہ نے ان پر خرچ کیا تھا۔میاں محمد عبد اللہ صاحب سابق انجینئر ایران حال نواب شاہ سندھ لکھتے ہیں کہ میاں وہاب نے ایک دفعہ کہا کہ حضرت صاحب کی مجلسِ عرفان میں رکھا ہی کیا ہے۔پھر 1955ء کے شروع کے متعلق ملک صاحب خاں صاحب نون ریٹائر ڈ ڈپٹی کمشنر بیان کرتے ہیں کہ جب میاں عبدالمنان صاحب کا مکان دوسری جگہ بنے لگا تو میں نے بھیرہ کے تعلقات کی وجہ سے ان سے کہا کہ میاں صاحب! میں نے تو آپ کی صحبت حاصل کرنے کے لئے آپ کے قریب مکان بنایا تھا مگر آپ اب کہیں اور چلے ہیں۔تو اس پر میاں عبدالمنان صاحب