انوارالعلوم (جلد 26) — Page 113
انوار العلوم جلد 26 113 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت پسران حضرت خلیفہ اول میرے ہمسایہ تھے۔یہ بات میرے واسطے بہت ہی خوشی و تسلی کی ہوئی۔گو میں بذات خود اس جگہ کو پسند نہیں کرتا تھا۔خیر مکان بنایا، بن گیا۔جب ناظر صاحبان کے مکان مکمل ہوئے تو میاں عبدالمنان صاحب اس نئے مکان میں چلے گئے اور جب میں ربوہ گیا تو مجھے معلوم ہوا۔اتفاق سے منان صاحب مجھے ملے۔میں نے کہا واہ مولوی صاحب ! آپ مجھے چھوڑ کر چلے گئے تو اس نے ذرا آگے آکر ذرا آہستہ آواز میں دایاں ہاتھ اٹھا کر میرے سینہ کے برابر کر کے کہا۔تسلی رکھو جدے جاواں گے تہانوں نالے لے جاواں گے۔اُس وقت میں نے بہتیر ا زور لگایا مگر مجھے اس مہمل بات کی سمجھ نہ آئی جو متواتر میرے دل میں چبھتی رہی۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی شان میں وجہ نہیں بتلا سکتا کہ کیوں میرا انس و کشش و محبت اُن سے دن بدن کم ہوتی گئی حتی کہ جب اماں جی کی وفات ہوئی ڈاک خانہ کے پاس کھڑے کھڑے ہی میں نے منان سے اظہار افسوس کیا اور ان کے مکان تک بھی نہ گیا۔نوبت بایں جا رسید والا معاملہ ہوا کہ جب دو دفعہ منان صاحب میرے سامنے آئے تو میں نے اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمُ بھی اُن سے نہیں کی۔میں نہیں بتلا سکتا کہ کونسی غیبی طاقت اندر ہی اندر کام کر رہی تھی۔جب میں نے یہ فتنہ پڑھا تو ہر پر چہ الفضل کو اوّل سے آخر تک پڑھتارہا اور خاص توجہ اس طرف تھی کہ منان صاحب کا بھی کہیں ذکر ہے کتنی کہ اُن کے خیالات کے متعلق اطلاع آمدہ امریکہ سے میرا وہ پرانا معمہ حل ہوا کہ :۔جدے جاواں گے تہانوں نال لے جاواں گے۔‘ کا کیا مدعا تھا۔اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر تحریر کرتا ہوں کہ اس میں ذرہ بھر بھی جھوٹ نہیں۔نوٹ۔میں نے اس کا ذکر بہت دن ہوئے محترم جناب مرزا عبدالحق صاحب