انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 76 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 76

انوار العلوم جلد 26 76 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت 1918ء، 1919ء میں جیسا کہ میاں گواہی فضل محمد خان صاحب شملوی فضل محمد خان صاحب شملوی کی گواہی سے ظاہر ہے میاں عبد السلام صاحب، مولوی محمد علی صاحب سے شملہ میں ملے اور اُن سے نذرانہ وصول کیا۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں: 1915ء کے قریب یا دو تین سال بعد میاں عبدالسلام صاحب عمر جبکہ وہ صرف ساتویں جماعت میں پڑھتے تھے حضرت مولوی غلام نبی صاحب کے ساتھ جبکہ وہ گرمی کی چھٹیوں میں تفریح کے لئے ٹوٹی کنڈی میں آ کر ٹھہرے۔اس دوران میں مولوی عبدالسلام صاحب غیر مبائعین سے بھی بلا تکلف مل لیتے تھے۔مجھے یہ بہت بُرا معلوم ہوتا تھا۔میرے دل میں صاحبزادہ ہونے کے سبب سے جو احترام تھا کم ہو گیا۔پھر اسی عید کے موقع پر مجھے یاد نہیں کہ بڑی تھی یا چھوٹی میاں عبدالسلام صاحب مولوی محمد علی صاحب سے عید کا نذرانہ لے آئے اور ان کی گود میں بیٹھ آئے۔جب اس روئیداد کا علم ہوا تو خان صاحب برکت علی صاحب نے جو اُس وقت جماعت کے سیکرٹری تھے اُن کو تنبیہ کی کہ وہ مخالفین کے پاس کیوں گئے ایسا نہ چاہیے تھا۔تو مولوی عبدالسلام صاحب بجائے نصیحت حاصل کرنے کے بہت بگڑے اور کہا کہ آپ کو ہمارے کسی قسم کے تعلقات پر گرفت کرنے کا حق نہیں۔( یعنی ہم چاہے احراریوں سے ملیں چاہے پیغامیوں سے ملیں تم کون ہوتے ہو جو ہمیں روکو ) مولوی عمر الدین صاحب بڑی تجس کے انسان تھے۔مولوی صاحب مولوی عبدالسلام صاحب کی بہت دلجوئی کرتے۔اسی دوران میں مولوی عبدالسلام صاحب عمر نے مولوی عمرالدین سے کسی گفتگو کے دوران میں یہ کہا کہ میں نے خلیفہ اسیح الثانی کے ( نَعُوذُ باللهِ ( قابل اعتراض دستی خطوط اُڑائے ہوئے ہیں جو میرے پاس محفوظ ہیں۔اب اگر اس خاندان میں تخم دیانت باقی ہے تو وہ میرے خط شائع