انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 75 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 75

انوار العلوم جلد 26 75 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت 1914ء میں حضرت خلیفہ اول کی وفات کے بعد پیغامیوں نے قادیان میں ریشہ دوانیوں کا مرکز حضرت خلیفہ اول کے گھر کو بنایا۔مختلف اوقات میں لاہور سے جاسوس آتے رہے اور ا کا بر بھی۔اور سازش یہ کی گئی کہ اس خاندان میں ایک برائے نام خلیفے کا انتظام کیا جائے۔جسے کچھ عرصہ بعد ترکی خلافت کی طرح معزول کر دیا جائے۔کیونکہ ان کا تجربہ بتاتا تھا کہ 66 اس خاندان کے افراد اس قسم کے سنہری خواب دیکھ رہے ہیں۔“ خود مجھے بھی یاد ہے کہ ایک دفعہ اپنے بچوں کو لے کر حضرت خلیفہ اول کی بیوی جو میری ساس تھیں میرے پاس آئیں اور بیٹھ کے کہنے لگیں کہ ہماری یہاں کوئی قدر نہیں۔پیغامی میرے پاس آتے ہیں ، بڑے روپے دیتے ہیں، تھے لاتے ہیں اور کہتے ہیں لا ہور آ جاؤ ہم بڑی قدر کریں گے۔میں نے کہا بڑی خوشی سے جائیے آپ کو یہ خیال ہوگا کہ شاید آپ کی وجہ سے مجھے خلافت ملی ہے۔مجھے پروا نہیں۔آپ چلے جائیے اور اپنی بھڑاس نکالیے۔پھر جا کر آپ کو تھوڑے دنوں میں ہی پتا لگ جائے گا کہ جو کچھ سلسلہ آپ کی مدد کرتا ہے وہ اس کا دسواں حصہ بھی مدد نہیں کریں گے۔چنانچہ وہ پھر نہ گئیں گو درمیان میں جماعت کی وفاداری کی وجہ سے اُن کا یہ خیال د بتا رہا مگر پھر بھی یہ چنگاری سلگتی رہی۔چنانچہ 1918ء،1919ء میں دار حضرت خلیفہ اول میں مجھے زہر دینے کا منصوبہ کیا گیا۔اس کے متعلق برکت علی صاحب لائق لدھیانوی جوخود اُن کے ہم وطن ہیں اور جن کے شاگرد اس وقت پاکستان میں بڑے بڑے عہدوں پر ہیں اور اب بھی مجھے خط لکھتے رہتے ہیں کہ ہمارے اُستاد بڑے نیک تھے اُن کا پتا بتائیں۔اُن کی شہادت ہے کہ 1918ء میں لا ہور کے بعض معاندین نے حضرت اقدس کو زہر دینے کی سازش کی اس طریق پر کہ اماں جی مرحومہ کے گھر میں حضور کی دعوت کی جائے اور دعوت کا اہتمام لاہوری معاندین کے ہاتھ میں ہومگر ایک بچے نے جو اُن کی سرگوشیاں سن رہا تھا ساری سکیم فاش کر دی۔“