انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 77

انوار العلوم جلد 26 77 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت کرے ورنہ میں کہتا ہوں کہ اگر اس خاندان کے افراد نے یہ بات کہی ہے تو لَعْنَتُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ ) مولوی عمرالدین نے یہ بات ٹوٹی کنڈی کے دوستوں کو بتائی۔میں اس بناء پر سخت رنجیدہ اور متنفر ہوا۔عمر بھر اگر چہ مولوی عبدالسلام صاحب بڑے تپاک سے ملتے تھے اور معانقے سے ملتے تھے مگر میرے دل میں بڑی قبض محسوس ہوتی تھی۔بعد میں یہ بھی افواہا سنا رہا کہ لاہوری جماعت حضرت خلیفہ اول کے گھر والوں کو اپنے ساتھ ملانے کی جد و جہد کرتی رہتی ہے اور لاہوری لوگ مالی مدد سے تالیف کرتے رہتے ہیں۔میری ساری ہی عمران سے متنفر گزری ہے۔1926ء میں میاں عبدالوہاب کی طرف سے مجھ پر عبدالحی مرحوم کو زہر دینے اور عیش پرستی کرنے کا الزام لگایا گیا۔اس بارہ میں ملک عزیز احمد صاحب رضاعی رشتہ دار حضرت خلیفہ اول و اتالیق میاں عبدالوہاب صاحب (جن کو ان کی ماں نے اتالیق مقرر کیا تھا ) کی گواہی ہے کہ : 1926ء میں میاں عبدالوہاب نے حضور پر مندرجہ ذیل الزام لگائے:۔1۔میاں عبدالحی کوزہر دے دی۔2۔آپا امتہ المی صاحبہ کی شادی سیاسی نوعیت سے کی گئی (یعنی خلیفہ بننے کے لئے۔گویا خلیفہ پہلے بن گئے شادی بعد میں ہوئی۔) 3۔آپ معاذ اللہ عیش پرست ہیں۔اور کہا آپ قادیان سے باہر رہتے ہیں آپ کو حالات کا کیا پتا ہو۔66 اس کے علاوہ میری اپنی شہادت ہے کہ 1926 ء ، 1927ء میں مباہلہ والے جب گند اُچھال رہے تھے تو علی محمد اجمیری اور عبد الوہاب مل کر وہاں گئے اور اُن کو ایک خط لکھ کر بھجوایا کہ آپ خلیفہ ثانی کے متعلق جو چاہیں لکھیں ہمارے خلاف کچھ نہ لکھیں۔انہوں نے خط لکھ کر ایک لڑکے کو دے دیا کہ آپ تسلی رکھیں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔اُس لڑکے نے جو مدرسہ احمدیہ میں پڑھتا تھا وہ خط مع جواب لا کر مجھے دے دیا۔مولوی علی محمد اجمیری نے مجھے لکھا ہے کہ وہ تو بے شک گئے تھے مگر میاں عبدالوہاب اُس میں شامل نہ تھے۔مگر میرا حافظہ اس کی تردید کرتا