انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 68

انوار العلوم جلد 26 68 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت وہ چونکہ معمولی کمپونڈ ر اور طالب علم کی حیثیت میں گیا تھا پہلے تو پتا نہ لگا۔اس کے مرنے پر جب اُن کو پتا لگا کہ ایک لڑکے نے خود کشی کی ہے اور وہ دتی کا ہے تو انہوں نے گرید کی اور پتا لگا کہ یہ تو میرا بھانجا ہے۔وہ چونکہ حاکم تھے انہوں نے فوراً کارروائی کی کہ اس کا پیٹ چاک کیا جائے اور زہر نکالا جائے اور یہ دیکھا جائے کہ یہ زہر اتفاقی استعمال ہوا ہے یا جان بوجھ کر دیا گیا ہے۔نواب محمد علی خاں صاحب جو نواب مالیر کوٹلہ کے جو اُس وقت بچہ تھے ماموں تھے اور بعد میں میرے بہنوئی ہوئے۔(حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بڑی بیٹی اُن سے بیاہی گئیں) اُن کو چونکہ قرآن پڑھانے کے لئے حضرت خلیفہ اول گئے تھے اور اُن کا ریاست میں رسوخ تھا انہوں نے فوراً کوشش کر کے راتوں رات کبیر کو دفن کرا دیا اور اِس طرح اس فتنہ کو دفع کیا۔بیٹے کا مرجانا ماں کے لئے بڑے صدمہ کا موجب ہوتا ہے مگر یہ بغض اتنا لمبا ہو گیا کہ حضرت اماں جان کی خالہ جوا کثر قادیان آتی رہتی تھیں اور قادیان میں بڑا لمبا عرصہ والدہ کے پاس رہتی تھیں انہوں نے ہم سے ملنا جلنا چھوڑ دیا۔چنانچہ 1909ء یا1911ء میں ہم ایک دفعہ دتی گئے تو حضرت اماں جان ) بھی ساتھ تھیں۔چونکہ انہیں اپنی خالہ سے بڑی محبت تھی وہ اپنی اماں کی بھاوج کے ہاں ٹھہریں۔اُن کو سارے "بھابی جان '' بھابی جان" کہتے تھے۔اب اُن کے بچے کراچی میں ہیں۔اُن کے گھر میں ہی ہم جا کر ٹھہرتے تھے۔اُس وقت بھی ان کے گھر میں ہی ٹھہرے۔بلکہ اُن کا ایک لطیفہ بھی مشہور ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام 1891ء میں دتی گئے تو آپ کے خلاف بڑا جلسہ ہوا اور شور پڑا۔لوگوں نے کہا کہ اس کو قتل کر دو۔مولویوں نے وعظ کیا کہ جو اس کو قتل کر دے گا وہ جنتی ہو گا۔ہماری وہ بھابی بڑی مخالف تھیں مگر آخر رشتہ دار تھیں۔ایک دن اُن کی نوکر آئی اور آ کر کہنے لگی۔بی بی ! دعا کرو میرا بچہ بیچ الله جائے، وہ صبح چھری تیز کر رہا تھا۔کوئی قادیان سے آیا ہے جو رسول اللہ ﷺ کی بہتک کرتا ہے اُس کو مارنے گیا ہے۔وہ کہنے لگیں کمبخت اچپ کر۔وہ تو میری بھانجی کا خاوند ہے۔مگر بہر حال اُن کے گھر میں خالہ بھی ٹھہری ہوئی تھیں۔اماں جان نے پرانی محبت کی وجہ سے اُن سے خواہش کی کہ مجھے ملا دو۔بھائی جان نے انکار کر دیا کہ وہ تو کہتی ہیں میں اُس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی۔پھر ہماری ایک اور بہن تھی اُن کی بیٹی بعد میں حکیم اجمل خان صاحب مرحوم کے بھائی