انوارالعلوم (جلد 26) — Page 69
انوار العلوم جلد 26 69 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت سے بیاہی گئی تھیں۔حضرت اماں جان) نے اُن سے کہا وہ چھوٹی بچی تھیں اُن کو تو ان باتوں کا پتانہیں تھا۔انہوں نے پردہ اُٹھا کے کہا کہ وہ مصلی پر بیٹھی دعا کر رہی ہیں دیکھ لو۔اماں جان نے جا کر جھانکا تو اُسی وقت انہوں نے کھڑکی کھولی اور ہمسایہ میں چلی گئیں اور وہاں سے ڈولی منگا کر کسی اور رشتہ دار کے پاس چلی گئیں۔غرض اتنا اُن کے اندر بغض تھا کہ انہوں نے ہم سے ملنا بالکل چھوڑ دیا۔اُن کے رشتہ داراب بھی کراچی میں ہیں۔لاہور میں بھی لوہارو خاندان کے افراد ہیں۔نوابزادہ اعتزاز الدین جو پاکستان میں انسپکٹر جنرل پولیس تھے وہ بھی نواب لوہارو کے بیٹے تھے۔اور بیٹے بھی ہیں۔بعض اُن کی اولاد میں سے فوج میں کرنیل ہیں۔اُن کے ایک بھائی صمصام مرزا لاہور میں ہیں۔ان لوگوں سے جب بھی بات کرو وہ ہم پر ہنستے ہیں کہ تم بیوقوف ہو۔مولوی صاحب نے اُسے مروا دیا تھا۔تم بیوقوفی میں یونہی اپنے مذہبی عقیدہ کے ماتحت سمجھتے ہو کہ نہیں مروایا تھا آپ مر گیا تھا۔اُس نے خود کشی کوئی نہیں کی اُس کو مروا دیا گیا تھا۔غرض یہ واقعہ حضرت خلیفہ اول کے خاندان کے دلوں میں بغض کو بڑھانے کا ایک دوسرا سبب بن گیا۔حضرت خلیفہ اول کی اس کے بعد حضرت خلیفہ اول کی وفات پر خلافت ثانیہ کے انتخاب کا وقت آیا تو مولوی محمد علی صاحب کے وفات پر اختلاف کی وجہ اختلاف کی ایک وجہ تو یہ ھی کہ اقتدار ان کے ہاتھ سے نکل جاتا تھا۔دوسری وجہ یہ تھی کہ اُن کی پہلی بیوی مرحومہ جو نہایت ہی نیک عورت تھیں ( میرا یہ مطلب نہیں کہ ان کی موجودہ بیوی نیک نہیں ہے مگر وہ پہلی بیوی میری بہن بنی ہوئی تھیں اور اُن کو میں ذاتی طور پر جانتا تھا۔اس لئے میں نے اُن کے متعلق اپنی رائے بیان کر دی ہے۔وہ مجھ سے بہت ہی محبت کرتی تھیں۔فاطمہ بیگم اُن کا نام تھا۔مولوی محمد علی صاحب کی جب شادی ہوئی میں بہت چھوٹا سا تھا۔دس سال کا ہوں گا کہ وہ آتے ہی میری بہن بن گئیں۔ہمیشہ میرا سر دیکھنا، جوئیں نکالنی، بہت ہی محبت کرتی تھیں اور کہتیں یہ میرا بھائی ہے۔اور میں انہیں بہن کہا کرتا تھا) وہ نومبر 1908ء میں فوت ہوئیں۔مجھے اُس وقت کسی کام کے لئے حضرت خلیفہ اول نے باہر بھیجا ہوا تھا۔میں جب واپس آیا تو مجھے مرحومہ کی وفات کا علم ہوا۔میں نے اُسی وقت ایک ہمدردی سے پُر خط مولوی محمد علی صاحب کو