انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 67 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 67

انوار العلوم جلد 26 67 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت۔عبدالوہاب اور عبدالمنان کی والدہ نے اپنے خاندان کی ایک لڑکی فاخرہ نام کی پالی ہوئی تھی۔اُدھر حضرت اماں جان) نے اپنے وطن سے دُوری کی وجہ سے اپنی خالہ کے ایک بیٹے سید کبیر احمد کے لئے قادیان بلایا ہوا تھا۔جب حضرت خلیفہ اول مالیر کوٹلہ گئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فیصلہ کیا کہ اس بچے کو طب کی تعلیم دلوائی جائے اور اُس کو بھی اُن کے ساتھ ہی تعلیم کے سلسلہ میں مالیر کوٹلہ بھیج دیا گیا۔کبیر احمد کا بیان تھا کہ حضرت خلیفہ اول کی دوسری بیوی نے اُس سے وعدہ کیا تھا کہ وہ فاخرہ کا اس سے بیاہ کر دیں گی لیکن بعض ایسے حالات کی وجہ سے جن کا حقیقی علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے سید کبیر احمد نے جو ہمارے خالہ زاد ماموں تھے زہر کھا کر خود کشی کر لی اور سارے کو ٹلہ اور دہلی میں یہ مشہور ہو گیا کہ اس خود کشی کی وجہ حضرت خلیفہ اول کی دوسری بیوی تھیں۔چنانچہ آج تک بھی کچھ لوگ جو نواب لوہارو کے خاندان کے یا ہمارے ننھیال کے زندہ ہیں یہی الزام لگاتے چلے آتے ہیں کہ کبیر احمد کو نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَالِکَ اپنے خاندان کی بدنامی کے ڈر سے حضرت مولوی نور الدین صاحب نے زہر دے کر مروا دیا تھا۔حالانکہ واقعہ یہ تھا کہ چونکہ وہ آپ سے طب پڑھتا تھا اور دوائیں اُس کے قبضہ میں تھیں اُس نے خودزہر نکال کر کھا لیا تھا۔مگر غلط نہی ان لوگوں کے دماغ میں ایسی جاگزیں ہو گئی تھی کہ میرے رشتہ کے ایک ماموں حافظ عبدالمجید صاحب سب انسپکٹر پولیس جن کو محمد امین بھی کہتے تھے 1936 ء یا 1937ء میں مجھے ملنے کے لئے قادیان آئے اور باتوں باتوں میں کہنے لگے کہ ہمارے ایک بھائی کو حضرت مولوی نورالدین صاحب نے زہر دے کر مروا دیا تھا۔میں نے غصہ سے اُن کو کہا کہ میں حضرت خلیفہ اول کے متعلق ایسی کوئی بات نہیں سن سکتا۔اس پر وہ بھی غصہ سے اُٹھ کھڑے ہوئے اور کہا کہ میں بھی اپنے بھائی کے واقعہ کو بھول نہیں سکتا اور چلے گئے۔اِس واقعہ کو اور اہمیت اس طرح مل گئی کہ ہمارے نھیال کا رشتہ نواب صاحب لوہارو سے تھا۔یہ اتفاق کی بات ہے کہ اُس وقت نواب صاحب مالیر کوٹلہ کم سن تھے اور گورنمنٹ نے اُن کا نگران نواب صاحب لوہارو کو مقرر کر کے بھیجا ہوا تھا۔جس وقت یہ کبیر کا واقعہ ہوا اُس وقت نواب صاحب لوہار و کوٹلہ میں تھے۔پہلے تو کسی کو پتا نہیں تھا کہ یہ بھی اُن کے رشتہ دار ہیں۔جس طرح نواب صاحب لو ہا ر و ستمی به فرخ مرزا میرے ماموں تھے۔وہ کبیر کے بھی ماموں تھے۔مگر