انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 6 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 6

انوار العلوم جلد 26 6 افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1956ء آئیں گے۔تو میں نے بار بار منتظمین کو توجہ دلائی مگر با وجود اس کے انہوں نے اپنی طرف سے تو کوشش کی مگر پھر بھی خدا کے اندازے کو نہ پہنچے اور آج رات بارہ بجے وہ حالت تھی کہ عورتوں کی رہائش گاہ میں تل رکھنے کی جگہ نہ تھی اور عورتیں سردی میں بچے لئے پھرتی تھیں کہ کوئی جگہ ہمیں نہیں مل رہی۔اور رپورٹ سے پتا لگتا ہے کہ پچھلے سال سے اس دفعہ ڈیوڑھے آدمی اس وقت تک آچکے ہیں۔پچھلے سال رات کے کھانے پر انیس ہزار اور کچھ سو تھے اور اس سال رات کے کھانے پر ستائیس ہزار سے زیادہ تھے۔گویا ڈیوڑھے کے قریب تعداد تھی یا ڈیوڑھے سے بھی کچھ زیادہ تھی۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے اور یہ فضل اور احسان جب تک آپ لوگوں کے دلوں میں ایمان قائم رہے گا اللہ تعالیٰ اسے بڑھاتا چلا جائے گا۔تم خدا کا لگایا ہوا پودا ہو تم بڑھتے چلے جاؤ گے اور پھیلتے چلے جاؤ گے۔اور جیسا کہ وہ قرآن کریم میں فرماتا ہے تمہاری جڑیں زمین میں مضبوط ہوتی جائیں گی اور تمہاری شاخیں آسمان میں پھیلتی چلی جائیں گی۔یہاں تک کہ تم میں لگنے والے پھلوں کو جبریل آسمان پر بیٹھا ہوا کھائے گا اور اس کے ماتحت فرشتے بھی آسمانی پر سے کھائیں گے اور خدا تعالیٰ عرش پر تعریف کرے گا کہ میرا لگایا ہوا پودا کتنا شاندار نکلا ہے۔ادھر زمین میں اس کی جڑیں پھیل گئی ہیں اور اُدھر آسمان میں میرے عرش کے پاس اس کی شاخیں ہل رہی ہیں اَصْلُهَا ثَابِتَ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ 3 اس کی جڑیں زمین میں پھیلی ہوئی ہوں گی اور اس کی شاخیں آسمان میں پھیلی ہوئی ہوں گی۔تو ادھر تو تم خدا تعالیٰ کے فضل سے زمین میں اس طرح پھیلو گے کہ جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے ایک دن وہ آئے گا کہ دنیا میں میرے ماننے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہو جائے گی اور دوسرے لوگ جس طرح چھوٹی تو میں تھوڑی تھوڑی ہوتی ہیں اسی طرح وہ بھی چھوٹی قو میں بن کر رہ جائیں گے۔اور فَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ کے معنی یہ ہیں کہ تم صرف زمین میں پھیلو گے ہی نہیں بلکہ ذکر الہی اتنا بلند کرو گے کہ آسمان کے فرشتے اس کو سن کرنا چنے لگ جائیں گے اور خوش ہوں گے کہ ہمارے خدا کا ذکر زمین پر بھی اُسی طرح ہونے لگ گیا ہے جس طرح کہ ہم آسمان پر کرتے ہیں۔تب آسمان پر بھی فرشتے ہوں گے اور زمین پر بھی فرشتے ہوں گے۔آسمان کے فرشتوں کا نام جبریل اور اسرائیل وغیرہ ہوگا اور زمین کے فرشتوں کا نام احمدی ہوگا کیونکہ وہ زمین کو بھی خدا کے ذکر