انوارالعلوم (جلد 26) — Page 7
انوار العلوم جلد 26 7 افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1956ء سے بھر دیں گے جس طرح کہ آسمان کو فرشتوں نے خدا کے ذکر سے بھرا ہوا ہے۔پس یہ تو ہونے والا ہے اور ہو کر رہے گا اِنْشَاءَ اللهُ تَعَالٰی۔صرف ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے ایمانوں کو سلامت رکھیں اور اپنی اولادوں کے دلوں میں ایمان پختہ کرتے چلے جائیں۔اگر اس تربیت کے کام کو ہم جاری رکھیں تو یقینا دنیا میں اسلام اور احمدیت کے سوا کچھ باقی نہیں رہے گا۔یہ عیسائی حکومتیں جو آج ناز اور نخرے کے ساتھ اپنے سر اٹھا اٹھا کر چل رہی ہیں اور چھاتیاں نکال نکال کر چل رہی ہیں یہ اسلام کے آگے سر جھکا ئیں گی۔اور یہی لنگوٹی پوش احمدی اور دھوتی پوش احمدی جو یہاں بیٹھے ہیں ان کے آگے امریکہ کے کروڑ پتی آ کر سر جھکا ئیں گے اور کہیں گے کہ ہم ادب سے تم کو سلام کرتے ہیں کہ تم ہمارے روحانی باپ ہو۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم جو نہ صرف ہمارا باپ تھا بلکہ ہمارے خدا کے بیٹے مسیح کا بھی باپ تھا تم اُس کے فرزند ہو اور ہم تمہارے بیٹے ہیں۔پس تم نے ہمیں اپنے باپ سے اور ہمارے خدا کے بیٹے کے باپ سے روشناس کرایا ہے اس لئے تم ہم کو خاندانِ الوہیت میں واپس لانے والے ہو۔تم ہم آوارہ گردوں کو پھر گھر پہنچانے والے ہو۔اس لئے ہم تمہارے آگے سر جھکاتے ہیں اور تم سے برکتیں چاہتے ہیں کیونکہ تمہارے ذریعہ سے اسلام ہم تک پہنچا ہے۔سو یہ دن آنے والے ہیں إِنْشَاءَ اللَّهُ تَعَالَى میں اپنی اس مختصر سی تقریر کے ختم کرنے سے پہلے عورتوں کو بھی یہ کہنا چاہتا ہوں کہ رات کو ان کو تکلیف پہنچی ہے اور بعض ان میں سے شکوہ بھی کرنے لگیں لیکن اصل بات یہ ہے کہ ان کو شکوہ کا حق نہیں تھا شکوہ کا حق ہمارا تھا۔ہمارا حق تھا کہ ہم خدا سے کہتے کہ الہی ! ہم اپنا فرض ادا نہیں کر سکے تو ہم کو معاف کر۔ان کو شکایت کا حق نہیں تھا ان کو تو خوش ہونا چاہیے تھا کہ اللہ میاں تیرے کتنے احسان ہیں پھر تو ہمیں اتنالایا کہ جماعت کا مرکز ہمارے ٹھہرانے کا انتظام نہیں کر سکا۔تو یہ تو جماعت کی ترقی کی علامت ہے۔ان کو اس پر خوش ہونا چاہیے تھا۔ہمیں رونا چاہیے تھا کہ ہم خدا تعالیٰ کے فضلوں کا اندازہ نہیں لگا سکے اور ہم نے جو اندازہ لگایا تھا وہ غلط ہو گیا۔ان کو ہنسنا چاہیے تھا کہ دیکھو خدا تعالیٰ ہمیں اتنی تعداد میں لایا ہے کہ یہ مرکز والے باوجود ساری کوششوں کے ہمارا انتظام کرنے سے محروم رہ گئے۔اور ہمارے افسروں کو چاہیے تھا کہ وہ