انوارالعلوم (جلد 26) — Page xxi
انوار العلوم جلد 26 10 تعارف کنند سب کچھ قربان کر دیا۔اور واقعات بتاتے ہی کہ ابتر تو دشمن ٹھہرے جن کا کوئی نام لیوا دنیا میں نہ رہا۔حتی کہ ان کی جسمانی صلبی اولادوں نے بھی اپنے والدین کو خیر باد کہہ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی اولاد میں شرکت اختیار کر لی۔اور یہ روحانی اولا داب تک آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام روشن رکھے ہوئے ہے۔حضور نے ابوسفیان کے بیٹے معاویہ، ابو جہل کے بیٹے عکرمہ، ولید کے بیٹے خالد کی مثالیں دے کر ان کی قربانیوں کا تفصیل سے ذکر فرمایا: حضور نے نہایت جلالی انداز میں فرمایا کہ اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود اور آپ کی جماعت، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی اولاد ہے۔یہ ایسا کوثر ہے جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا۔بس تمہارا فرض ہے کہ تم حقیقی معنوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی اولاد بنو۔اس ضمن میں حضور نے فرمایا: پس اِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرُ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ میں کوثر سے مراد ایک تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہیں اور اس کے معنی یہ کہ اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم تجھے مسیح موعود جیسا ایک عظیم الشان روحانی فرزند عطا کریں گے جو کثرت سے خزانے لٹائے گا۔احادیث میں بھی پیشگوئی کی گئی تھی کہ مسیح موعود خزانے لگائے گا مگر وہ لوگ اسے قبول نہیں کریں گے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سینکڑوں کتابیں اسلام کی تائید میں لکھیں اور دینی حقائق اور معارف کے خزانے لوگوں کے سامنے رکھے مگر لوگوں نے ان کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔اگر ان خزانوں سے ظاہری مال و دولت مراد ہوتی تو اس کے قبول نہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کیونکہ جس کسی کو بھی روپیہ دو وہ فورا لے لیتا ہے۔۔۔۔۔تو کوثر سے مراد ایک تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہیں کہ وہ صاحب خیر کثیر ہیں۔ایک کوثر سے مراد تم ہو جنہیں اللہ تعالیٰ نے بڑی کثرت بخشی ہے۔پہلے تم