انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xx of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page xx

انوار العلوم جلد 26 9 تعارف کنند آسمانی بادشاہت کو دلہن سے تشبیہہ دی ہے مگر عیسائیوں نے تو غفلت سے کام لیا اور چرچ کو شیطان کے سپرد کر دیا۔یا دوسرے الفاظ میں یوں کہو کہ دلہن کو دولہا کے سوا کسی اور کے سپرد کر دیا لیکن ہمارا کام یہ ہے کہ ہم مساجد کو ہمیشہ خدا تعالیٰ کے لئے آباد رکھیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ مساجد اس لئے ہیں کہ ان میں میرا ذکر بلند ہو۔پس جب ہم مساجد بناتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم دلہن کو اس کے دولہا کے سپر د کرتے ہیں اور جب مساجد بنانے میں کمزوری دکھاتے ہیں تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ ہم دلہن کو دولہا کے پاس پہنچانے میں سستی سے کام لیتے ہیں" حضور نے جماعت کی ترقی کا ذکر فرما کر اپنے خطاب کو ان الفاظ میں ختم فرمایا: پہلے لوگ کہتے تھے کہ انگریزی سلطنت پر سورج نہیں ڈوبتا لیکن اب یہ بات عملاً احمدیت پر بھی صادق آتی ہے۔اب احمدیت پر بھی سورج غروب نہیں ہوتا لیکن ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آذانوں پر بھی سورج غروب نہ ہو " " (7) ہر احمدی عورت احمدیت کی صداقت کا ایک زندہ نشان ہے امسال لجنہ اماءاللہ کے سالانہ اجتماع کے موقع پر 26 اکتوبر کو حضرت مصلح موعود نے باوجود علالت طبع کے ایک جلالی اور بصیرت افروز خطاب فرمایا۔جس میں حضور نے سورۃ الکوثر کی تلاوت فرما کر اس کی نہایت ہی لطیف اور ایمان افروز تفسیر فرمائی کہ دشمن اسلام ، آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ اعتراض کرتا رہا ہے اور اب بھی کرتا ہے کہ نعوذ باللہ (حضرت) محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) نرینہ اولاد نہ ہونے کی وجہ سے ابتر ٹھہرے ہیں اور ان کی کوئی جسمانی صلبی اولاد نہ ہونے کی وجہ سے ان کی نسل آگے نہیں چلی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے مثالیں دے کر وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالی نے اس سورۃ میں فرمایا ہے کہ ہم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس اولاد سے بڑھ کر کوثر یعنی روحانی اولاد عطا کی ہے۔جنہوں نے جسمانی اولاد سے بڑھ کر اپنے روحانی باپ کو نہ صرف باہوں سے بڑھ کر عزت دی بلکہ اس کی خاطر اپنی جان ، اپنا مال ، اپنی عزت