انوارالعلوم (جلد 25) — Page 432
انوار العلوم جلد 25 432 قرون اولیٰ کی مسلمان خو کس لئے چھوڑ چلے ہو جہاں نہ کھانے کو کچھ ملتا ہے اور نہ پینے کے لئے پانی ہے۔تم ایک مشکیزہ پانی اور ایک تھیلی کھجوریں ہمیں دے چلے ہو یہ بھلا کتنے دن جائیں گی اس کے بعد ہم کیا کرینگے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس نظارہ کی وجہ سے کہ آپ اپنا بڑا اور اکلوتا بیٹا جو بڑھاپے میں پیدا ہوا تھا جبکہ آپ کی عمر سو سال کی تھی بیابان میں چھوڑ کر جارہے ہیں، رقت آگئی۔آپ نے سمجھا کہ اگر میں نے ہاجرہ کو زبان سے جواب دیا تو میری آواز بھر جائے گی اور میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو جائیں گے اس لئے آپ نے آسمان کی طرف ہاتھ اُٹھا دیا جس کا مطلب یہ تھا کہ ہاجرہ ! میں تجھے اور تیرے بیٹے کو کسی سگندلی کی وجہ سے یہاں نہیں چھوڑ رہا بلکہ مجھے ایسا کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔حضرت ہاجرہ نے آپ کی بات کو سمجھ لیا اور کہا إِذًا لَّا يُضَيعُنَا۔اگر آپ ہمیں خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت یہاں چھوڑ چلے ہیں تو ہمیں کوئی فکر نہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں کبھی ضائع نہیں کرے گا۔یہ کہہ کر حضرت ہاجرہ اس جگہ واپس آگئیں جہاں حضرت اسمعیل علیہ السلام کو لٹایا ہوا تھا اور ایک دفعہ بھی پیچھے مڑ کر اپنے خاوند کا منہ نہیں دیکھا۔لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام درد اور غم کی وجہ سے بار بار مُڑ مُڑ کر دیکھتے جاتے تھے۔گویا حضرت ہاجرہ نے جو صبر کا نمونہ دکھا یا وہ حضرت ابراہیم کے نمونہ سے بڑھ کر تھا۔آپ تو بار بار مڑ مڑ کر دیکھتے تھے لیکن حضرت ہاجرہ نے ایک دفعہ بھی مڑ کر نہ دیکھا اور کہا اگر خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ ہمیں یہاں چھوڑ دیا جائے تو وہ خود ہماری حفاظت کرے گا ہمیں کیا پروا ہے۔چنانچہ آپ وہاں رہیں اور پھر اسی جگہ اللہ تعالیٰ نے پانی کا چشمہ جاری کر دیا۔پانی کا چشمہ نکل آنے کی وجہ سے قافلے آپ کی اجازت سے وہاں ٹھہرتے اور چشمہ کا پانی استعمال کرتے۔بعد میں ایک قبیلہ وہاں آباد ہو گیا اور اس نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اپنا سر دار بنالیا۔پھر حضرت اسمعیل علیہ السلام کی نسل میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا عظیم الشان نبی پیدا ہوا۔تو دیکھو حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے مسلمان عورتوں کی قربانیاں زمانہ میں بھی عورتوں نے مذہب کی