انوارالعلوم (جلد 25) — Page 431
انوار العلوم جلد 25 431 قرون اولیٰ کی مسلمان خو کو بناتی تھیں۔مگر ان تصویروں سے پتہ لگتا ہے کہ اس زمانہ کی عورتیں اتنی قربانی کرنے والی تھیں کہ وہ رات دن کرشن جی کا پیغام دنیا کو پہنچاتی رہتی تھیں اور اسکے نتیجہ میں جو لوگ ایمان لے آتے تھے انہیں ساتھ لیکر کرشن جی کے پاس آتی تھیں اور وہ انہیں اپنی جماعت میں داخل کر لیتے تھے۔غرض حضرت کرشن کے زمانہ میں بھی عورتوں نے مذہب کے لئے بڑی قربانیاں کی ہیں۔پھر ہم اُن نبیوں کی طرف آتے ہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں آتا ہے۔اسلام کا مرکز مکہ مکرمہ ہے اور مسلمانوں کی واحد مسجد جو سب سے پرانی ہے وہ خانہ کعبہ ہے جو مکہ مکرمہ میں ہے۔اس کے بننے کا جو ذکر آتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بیوی حضرت ہاجرہ کا بڑا حصہ ہے۔حضرت ہاجرہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دوسری بیوی تھیں سارہ پہلی بیوی تھیں۔سارہ ، ہاجرہ سے کسی بات پر جھگڑ پڑیں تو انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا کہ اگر ہاجرہ اس گھر میں رہیں تو میرا اُن سے نباہ نہیں ہو سکے گا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہ جھگڑا دیکھ کر سخت صدمہ ہوا اور آپ نے اللہ تعالیٰ سے دُعا کی کہ یا اللہ ! میرے گھر کا امن برباد ہو رہا ہے، میری پہلی بیوی دوسری بیوی کی موجودگی میں میرے گھر میں رہنے سے انکار کر رہی ہے اور تُو نے اس کی اولا د سے بڑے وعدے کئے ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے کہا جیسے تیری پہلی بیوی سارہ کہتی ہے اُس میں تیرے خاندان کی بھلائی ہے۔تو ہاجرہ اور اس کے بیٹے اسماعیل کو جنگل میں چھوڑ آ 1 چنانچہ آپ حضرت ہاجرہ اور اُس کے بیٹے اسمعیل علیہ السلام کو لے کر (اسلامی روایات کے مطابق) مکہ کی طرف گئے۔وہاں پہنچ کر آپ نے ایک تھیلی کھجوروں کی اور ایک مشکیزہ پانی کا اُن کے پاس رکھا اور خود واپس آگئے۔ابھی وہاں زمزم کا چشمہ نہیں نکلا تھا اور اس بے آب و گیاہ وادی میں پانی کا نام و نشان تک نہ تھا۔قافلے بھی پیاس کی وجہ سے وہاں سخت تکلیف اُٹھاتے تھے۔حضرت ہاجرہ نے جب دیکھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اس بیابان میں اُنہیں اور ان کے اکلوتے بیٹے کو چھوڑ کر واپس جارہے ہیں تو وہ آپ کے پیچھے پیچھے آئیں اور کہنے لگیں ابراہیم ! تو مجھے اور میرے بچے کو یہاں