انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 433 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 433

انوار العلوم جلد 25 433 قرون اولیٰ کی مسلمان خا خاطر بڑی قربانیا کی ہیں۔کرشن کے زمانہ میں بھی تبلیغ کا اہم کام کیا ہے اور اسلام کے ابتدائی دور میں بھی عورتوں نے بڑے بڑے کارنامے سر انجام دیئے ہیں اور بعد میں بھی عورت کا حصہ بڑھتا چلا گیا۔دیکھو جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو آپ کی سب سے پہلے امداد جس نے کی وہ ایک عورت ہی تھی۔اسلام کی تبلیغ کے لئے سب سے پہلے روپے کی ضرورت تھی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی پیسہ ہ تھا۔اُس وقت حضرت خدیجہ نے اپنی تمام دولت آپ کے سپر د کر دی اور کہا آپ جس طرح چاہیں اُسے استعمال کریں۔آج ہم دیکھتے ہیں کہ اگر کوئی نوجوان دین کے لئے زندگی وقف کرتا ہے تو اُسے کوئی شخص اپنی لڑکی دینے کے لئے تیار نہیں ہو تا۔ماں باپ کہتے ہیں ہم اپنی لڑکی اُسے نہیں دیں گے ، ہماری لڑکی کھائے گی کہاں سے ؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو بچپن ہی سے واقف زندگی تھے اور آپ کے پاس کوئی روپیہ بھی نہیں تھا۔حضرت خدیجہ جو ایک بڑی مالدار خاتون تھیں، بیوہ تھیں، ان سے کسی سہیلی نے کہا، تم شادی کیوں نہیں کر لیتیں۔انہوں نے کہا، کس سے کروں ؟ اگر کوئی دیانتدار آدمی مل جائے تو شادی کرلوں۔اس نے کہا، محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سے بڑھ کر دیانتدار اور کون ہے۔تم نے خود اس کی دیانت کو دیکھ لیا ہے۔حضرت خدیجہ نے آپ کو شام کی طرف تجارتی مال دے کر بھیجا تھا اور اس سفر میں آپ کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی تھی۔حضرت خدیجہ نے محسوس کیا تھا کہ یہ نفع منڈیوں کے حالات کی وجہ سے نہیں بلکہ امیر قافلہ کی نیکی اور دیانت کی وجہ سے ہے۔آپ کے غلام میسرہ نے بھی آپ کے اس خیال کی تائید کی تھی۔بہر حال رسول کریم صلی اللہ علیہ کی دیانتداری کا حضرت خدیجہ پر بڑا اثر تھا۔جب اُس نے آپ کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شادی کرنے کی تحریک کی تو آپ نے فرمایا اگر وہ راضی ہو جائیں تو میں اُن سے شادی کرلوں گی۔اُس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر 25 سال کی تھی اور حضرت خدیجہ کی عمر 40 سال کی تھی گویا آپ حضرت خدیجہ سے 15 سال چھوٹے تھے۔حضرت خدیجہ کی اس سہیلی نے جس نے شادی کی تحریک کی تھی کہا اگر آپ اجازت دیں تو میں اس بارہ میں کسی سے بات کروں۔