انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 173 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 173

انوار العلوم جلد 25 اور اسلام کے لئے بھی ہوتی۔173 مجلس انصار اللہ و خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع 1955ء میں خطابات سو میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ خوش رہو۔آج ہی جب میں نے یہ واقعہ اپنے گھر میں سنایا تو انہوں نے بتایا کہ ریڈرز ڈائجسٹ میں ایک امریکن کا مضمون شائع ہوا ہے۔ریڈرز ڈائجسٹ امریکہ کا ایک بڑا مشہور رسالہ ہے جو دو کروڑ کے قریب شائع ہوتا ہے جس میں اس نے لکھا کہ میں نیوزی لینڈ گیا وہاں میں افسردہ رہنے لگ گیا۔ایک دن میں بیٹھا تھا کہ ایک نیا شادی شدہ جوڑا جو ہنستا ہوا آرہا تھا وہ میرے آگے کھڑا ہو کر کہنے لگا ہماری خاطر ایک دفعہ مسکرا دو۔کہنے لگا کہ میں جو مسکرایا تو پھر یوں مسکرانے لگا کہ مجھے اپنا وطن بھول ہی گیا اور میں مسکراتا ہی رہا۔تم بھی خدا اور اس کے رسول کی خاطر مسکراؤ، اپنے چہرے پر رونے کو کبھی نہ آنے دو اور مسکراتے چلے جاؤ تا کہ ساری دنیا تمہاری وجہ سے مسکراتی چلی جائے۔مگر ایسا مسکراؤ کہ اس کے ساتھ شیطان نہ مسکرائے۔خدا مسکرائے۔ایک مسکراہٹ ایسی ہوتی ہے جو خدا سے غافل کر دیتی ہے اس کے ساتھ شیطان مسکراتا ہے۔اور ایک مسکراہٹ وہ ہوتی ہے کہ اس کے ساتھ خدا بھی مسکراتا ہے۔پھر جس شخص نے یہ کہا کہ غربت آگئی ہے طوفان آئے ہیں۔اس نے بھی غلطی کی۔صحابہ میں دیکھو ایک صحابی عمرہ کے موقع پر اکڑ اکڑ کر طواف کر رہا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو اس کو بلایا اور فرمایا۔اکڑ نا خدا کو بڑانا پسند ہے لیکن تمہارے اکڑنے پر خدا خوش ہوا ہے۔تم کیوں اکڑے تھے ؟ کہنے لگا یار سول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم میں اس لئے اکڑا تھا کہ ملیریا کی وجہ سے سب کی کمریں ٹیڑھی ہو گئی تھیں۔میں نے کہا کافر ہمارا طواف دیکھ رہے ہیں، کہیں وہ ہماری ٹیڑھی کمریں دیکھ کر خوش نہ ہو جائیں کہ مسلمانوں کی کمریں ٹوٹ گئیں ہیں اس لئے میں اکڑا کٹر کر چلتا تھا کہ اُن کو بتاؤں کہ ہم خدا کے فضل سے بیماریوں سے ڈرنے والے نہیں ہم اکٹڑ کر چلیں گے۔آپ نے فرمایا خدا کو تمہاری یہ ادا بڑی پسند آئی ہے۔۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ملک پر آفت آئے تو مومن سے زیادہ اور کون غمگین ہو گا مگر اپنے غم کا تحفہ رات کے وقت خدا کے آگے نذر کے طور پر پیش کرو اور