انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 174 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 174

174 مجلس انصار الله وخدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع 1955ء میں خطابات انوار العلوم جلد 25 اپنی مسکراہٹیں دن کے وقت خدا اور اس کے رسول کے آگے پیش کرو تا کہ دشمن یہ نہ سمجھے کہ ان طوفانوں نے تمہاری کمریں توڑ ڈالی ہیں۔یاد رکھو خدا نے اس زمین میں کمائی کی بڑی قابلیت رکھی ہیں۔میں نے بارہا زمینداروں کو کہا ہے کہ ہمارا ایک وفد جاپان گیا تھا انہوں نے بتایا کہ چھ ہزار روپیہ فی ایکڑ جاپانی کمار ہے ہیں۔میں نے اٹلی سے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ چودہ سو روپیہ فی ایکڑ اٹلی والے کما رہے ہیں۔میں نے ہالینڈ سے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ تین ہزار روپیہ فی ایکٹر ہالینڈ والے کما رہے ہیں۔ہمارے ملک کی اوسط زمین دو تین ایکڑ فی شخص بنتی ہے۔تین ہزار فی ایکڑ کے لحاظ سے چھ ہزار کی آمدن یعنی پانچ سو روپیہ ایک مہینے کی آمد بنتی ہے۔گویا اس کی ای۔اے۔سی کے برابر تنخواہ ہو جاتی ہے۔ضرورت یہ ہے کہ ہمارے آدمی محنت کریں تا کہ اللہ تعالیٰ ان کی زمینوں میں سے سونا اگلوائے۔تاجر ایسی دیانت سے کام کریں کہ دنیا میں ہیں میں سے ان سے سودا لینے آئے، نوکر ایسی دیانت سے کام کریں کہ افسر کہے کہ میں نے رکھنا ہے تو احمدی رکھنا ہے، یہ بڑے دیانتدار ہوتے ہیں۔غرض اچھے سے اچھا کام کرو، زیادہ سے زیادہ محنت کرو اور خواہ زمیندارہ ہو ، تجارت ہو ، ملازمت ہو اپنے اعلیٰ نمونے پیش کرو۔اور جب خدمت خلق کا وقت آئے تو سب سے بڑھ کر خدمتِ خلق کرو۔دیکھو عذاب تو عذاب ہی ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرو کہ خدا تعالیٰ ہمارے ملک کو عذابوں سے بچائے۔لیکن اس عذاب کے وقت میں تم کو جو خدمت کی توفیق ملی ہے تو یہ تو مسکرانے والی بات ہے۔بہر حال خدمت کی توفیق ملنے کے لئے ہمیشہ دعائیں کرتے رہو۔اور جب کسی شکل میں بھی ملک پر کوئی مصیبت آئے تو سب سے آگے اپنی جان کو خطرہ میں پیش کرو تا کہ دنیا محسوس کرے کہ تم دنیا کے لئے ایک ستون ہو اور تمہارے ذریعہ سے ملک کی چھت قائم ہے۔اگر تم اپنے اندر یہ تغیر پیدا کر لو گے تو اللہ تعالیٰ بھی خوش ہو گا، تمہارے اہل ملک بھی خوش ہوں گے اور ملک بھی ترقی کرے گا اور لوگوں کے دلوں سے تمہاری دشمنیاں نکل جائیں گی اور تمہاری محبتیں