انوارالعلوم (جلد 25) — Page 172
انوار العلوم جلد 25 172 مجلس انصار اللہ و خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع 1955ءمیں خطابات اور میں پوری طرح دیکھ نہیں سکا ہوں گا لیکن بہر حال مجھے نظر یہ آیا کہ جیسے چہرے افسردہ افسردہ ہیں اور جھلسے جھلسے سے ہیں۔میں نے سمجھا شاید میری بیماری کے خیال سے ایسا ہے۔چنانچہ میں نے بعض دوستوں سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا طوفان کی وجہ سے لوگوں کی مالی حالت خراب ہو گئی ہے اِس وجہ سے ان کے چہرے افسردہ ہیں۔لیکن میں دیکھتا ہوں کہ یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔اگر میری بیماری اس کی وجہ ہو تو میں تو ایک انسان ہوں۔آخر انسان کب تک تمہارے اندر رہے گا۔اس کے بعد آخر خدا ہی سے واسطہ پڑنا ہے۔کیوں نہ خدا ہی سے شروع سے واسطہ رکھو۔دیکھو حضرت ابو بکڑ نے کیا سچائی بیان کی تھی کہ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللهَ فَإِنَّ اللهَ حَقٌّ لَا يَمُوتُ اگر خدا پر توکل کرو گے تو معلوم نہیں تمہارا اس دنیا کے ساتھ ہزار سال واسطہ پڑنا ہے یا دو ہزار سال واسطہ پڑنا ہے۔بہر حال ہزار دو ہزار سال کا عرصہ خدا کے لئے تو کچھ بھی نہیں مگر اس تو گل کے نتیجہ میں وہ ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گا۔اس بیماری میں مجھے خیال آیا کرتا ہے کہ کچھ خیر خواہ دوستوں کی بیوقوفیوں کی سزا بھی مجھے ملی ہے۔وہ ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ "خدا آپ کو عمر نوح دے " عمر نوح تو ہزار سال کہتے ہیں۔میں تو ستاسٹھ سال میں اپنے جسم کو ایسا کمزور محسوس کر رہا ہوں کہ مجھے یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے میری روح گویا قید کی ہوئی ہے۔اگر بجائے عمر نوح کی دعا کرنے کے وہ یہ دعا کرتے کہ یا اللہ تو ہمارے خلیفہ کو اتنی عمر دے جس میں وہ بشاشت کے ساتھ کام کر سکے اور تیری مدد اس کے ساتھ ہو تو مجھے کتنا فائدہ ہوتا۔اگر وہ مجھے عمر نوح ہی دے تو ہزار سال کی تو قوم نہیں ہوا کرتی۔قومیں تو دو دو ہزار سال چلتی ہیں پھر بھی تو ہزار سال کے بعد میں تم سے جدا ہو جاتا۔تو ایسی غلط دعامانگنے سے کیا فائدہ تھا۔دعایہ مانگی تھی کہ یا اللہ تو ان کو ایسی عمر دے جس میں ان کا جسم اس کام کا بوجھ اٹھا سکے اور بشاشت سے یہ تیرے دین کی خدمت کر سکیں۔اور ہمارے اندر وہ طاقت پیدا کر کہ جو کام تو ان سے لے رہا ہے وہ ہم سے بھی لیتا چلا جا۔یہ دعا میرے لئے بھی ہوتی اور تمہارے لئے بھی ہوتی