انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 70

70 سیر روحانی (8) انوار العلوم جلد 25 مقرر کر دونگا کیونکہ تمہیں اِس کے چڑھاووں سے آمدن ہوتی تھی یا اس کی زیارت کرنے کے لئے جو لوگ آتے تھے اُن سے آمدن ہوتی تھی۔پس میں تمہارے لئے کوئی جائداد مقرر کر دونگا اور تمہارا اس پر گزارہ ہو جائے گا مگر میں یہ نہیں مان سکتا کہ اس گھر کو نہ گراؤں یہ گھر تو میں نے گرا کر رہنا ہے۔چنانچہ وہ واپس گئے اور انہوں نے جاکے کہا کہ بادشاہ تو اس بات پر مُصر ہے کہ اِس گھر کو میں ضرور گراؤں گا اب کوئی وفد بھیجا جائے۔چنانچہ انہوں نے ایک وفد بھیجا جس کا سردار حضرت عبد المطلب کو جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا تھے چنا گیا۔لوگوں نے اُن سے کہا کہ آپ جائیے اور کوشش کیجیئے کہ کسی طرح یہ گھر بچ جائے۔حضرت عبد المطلب اور ابرہہ کی ملاقات یہ وہاں پہنچے تو بادشاہ نے ان کو بلایا اور ان سے پہلے ادھر اُدھر کی باتیں کیں۔ملک کی سیاست کے متعلق باتیں کیں، ملک کی اقتصادی حالت کے متعلق باتیں کیں، قومیت کے متعلق باتیں کیں۔حضرت عبد المطلب بڑے سمجھدار اور دانا تھے انہوں نے جو جواب دیئے بادشاہ اُن سے بہت متاثر ہوا اور اُس نے کہا یہ تو بڑا سمجھدار آدمی ہے۔خوش ہو کے اُس نے کہا کہ میں تو آپ سے مل کر بہت ہی خوش ہو ا ہوں مجھے توقع نہیں تھی کہ مکہ میں ایسے عقلمند بھی موجود ہیں۔آپ کوئی انعام مجھ سے مانگیں میں دینے کے لئے تیار ہوں۔انہوں نے کہا میرے دو سو اونٹ آپ کے سپاہی پکڑ لائے ہیں وہ مجھے واپس کر دیں۔بادشاہ کو غصہ چڑھ گیا اور اُس نے کہا دوسو اونٹ کی حیثیت کیا ہے میں تمہارا مذ ہبی مکان گرانے کے لئے آیا ہوں۔میں مانتا یا نہ مانتا تمہاری عقل سے میں یہ امید کرتا تھا کہ تم کہو گے یہ میرا مذ ہبی مقدس مقام ہے اِس کو چھوڑ دو۔مگر بجائے اس کے کہ تم مکہ کی سفارش کرتے ، خانہ کعبہ کی سفارش کرتے کہ اس کو چھوڑ دو تم نے اپنے دو سو اونٹوں کو یاد رکھا، میرے دل میں سے تو تمہاری ساری عزت جاتی رہی ہے۔حضرت عبد المطلب نے جواب دیا کہ بادشاہ تم جو چاہو نتیجہ نکال لو۔باقی میں تو سمجھتا ہوں اور یہی میں نے آپ کو بتایا ہے کہ دو سو اونٹ