انوارالعلوم (جلد 25) — Page 69
انوار العلوم جلد 25 69 سیر روحانی (8) بھی وہ ناکام رہے اور ان کی جاگیریں ضبط ہو گئیں لیکن یہاں کوئی پوچھنے والا ہی نہیں تھا معمولی حیثیت تھی۔کوئی طاقت نہیں ، کوئی قوت نہیں ، کوئی سامان نہیں صرف یہ اعلان ہے کہ یہ شاہی جاگیر ہے لیکن پھر بھی وہ جاگیر محفوظ رہی۔یمن کے گورنر کا بیت اللہ پر حملہ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ آج سے چودہ سو سال پہلے یمن میں ایک گورنر تھا۔اُس نے ایک گر جابنایا اور کہا کہ میں اس کو عرب کے سارے لوگوں کے لئے عزت کی جگہ بناؤں گا مگر وہ آباد نہ ہوا۔آخر اُس نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ گر جا آباد کیوں نہیں ہوتا ؟ انہوں نے کہا اصل بات یہ ہے کہ عرب میں ایک پرانا مکان ہے بیت اللہ یا خانہ کعبہ اُس کو کہتے ہیں اُس کی سارے عرب عزت کرتے ہیں جب تک وہ نہیں ٹوٹے گا لوگوں نے اس کی طرف توجہ نہیں کرنی۔پہلے اُس کو توڑ لو پھر کوئی تجویز ہوگی۔اُس نے کہا بہت اچھا۔چنانچہ اُس نے لشکر لیا اور چل پڑا۔چلتے چلتے طائف کے مقام پر پہنچے۔وہاں کے لوگوں کی مکہ والوں سے مخالفت تھی کیونکہ وہ مکہ کے مقابلہ میں طائف کا جو بڑا بت تھا اُس کے متعلق سمجھتے تھے کہ اس کو زیادہ عزت دینی چاہئے۔اُس نے اُن کو رشوت وغیرہ دی اور اس طرح اُن کے دلوں میں جو اپنی قوم کا ڈر تھا وہ اُتارا اور انہیں کہا کہ ہم کو مکہ پہنچاؤ۔وہ تیار ہو گئے۔جب لشکر مکہ کے قریب پہنچا تو جیسا کہ پرانے زمانہ میں قاعدہ تھا ایک منزل پر پہنچ کر وہاں سے انہوں نے مکہ والوں کو نوٹس دیا کہ ہتھیار پھینک و تم پر حملہ کر دیا جائے گا۔اُس وقت جو مہذب حکومتیں تھیں وہ اسی طرح کیا کرتی تھیں۔چنانچہ اسلام میں بھی یہی طریق رائج ہے۔جب یہ علم پہنچا تو مکہ کے لوگ گھبر اگئے۔انہوں نے کہا اتنا بڑا لشکر آیا ہے جو دس یا بیس یا پچاس ہزار کا ہے اور مکہ میں سپاہی پانچ سات سو ہیں ان کا ہم کہاں مقابلہ کر سکتے ہیں۔پھر ان کے ساتھ ہاتھی اور دوسری قسم کے سامان تھے ، اسی طرح منجنیقیں وغیرہ تھیں۔انہوں نے بہت منتیں سماجتیں کیں ، بادشاہ کے آگے ہاتھ جوڑے مگر اُس نے کہا میں نہیں مانتا، تم اپنا کوئی وفد بھیجو۔میں یہ تو فیصلہ کر چکا ہوں کہ اِس گھر کو گرا دونگا لیکن تمہارے لئے کوئی گزارہ