انوارالعلوم (جلد 25) — Page 71
انوار العلوم جلد 25 71 سیر روحانی (8) میرے ہیں۔بھلا کیا حیثیت ہے دو سو اونٹ کی؟ مگر مجھے ان کی فکر ہے کہ کسی طرح مجھے مل جائیں اور میں اُن کی حفاظت چاہتا ہوں۔تو اگر یہ اللہ کا گھر ہے تو کیا اللہ تعالیٰ کو اس کی اتنی فکر نہیں ہو گی جتنی مجھے دو سو اونٹ کی ہے ؟ اس جواب سے وہ ایسا متاثر ہوا کہ اُس نے اُن کے اونٹوں کی واپسی کا حکم دے دیا مگر بیت اللہ پر حملہ کرنے کا ارادہ اُس نے ترک نہ کیا۔خیر وہ واپس آگئے اور انہوں نے ساری قوم کو کہدیا کہ پہاڑ پر چڑھ جاؤ اور ملکہ کو خالی کر دو۔لوگوں نے کہا۔مکہ ہمارا مقدس مقام ہے۔کیا اس مقدس مقام کو ہم خالی کر دیں ؟ انہوں نے کہا میاں ! تمہارا امکان نہیں خدا کا مکان ہے۔تمہیں اس کا درد ہے تو خدا کو اِس کا درد کیوں نہیں ہو گا۔جس کا یہ گھر ہے وہ آپ اس کی حفاظت کریگا۔تم چھوڑو اس کو اور باہر چلو، اللہ تعالیٰ اس کی آپ حفاظت کریگا۔اگر ہماری طاقت ہوتی تو ہم لڑتے لیکن ہم میں طاقت نہیں ہے۔اب یہ خدا ہی کی طاقت ہے کہ وہ اس حملہ کو روکے۔چنانچہ انہوں نے سب کو شہر سے نکالا اور پہاڑ پر چڑھ گئے 26 ابرہہ کے لشکر کی تباہی مگر وہاں ایک دن انتظار کیا، دودن انتظار کیا، تین دن انتظار کیا جو اُس نے نوٹس دیا تھا کہ تین دن کے اندر میں حملہ کرونگاوہ تین دن گزر گئے اور کوئی بھی نہ آیا۔پھر چوتھا دن گزرا، پانچواں دن گزرا۔حیران ہو گئے کہ کیا بات ہے۔آیا اُس نے معاف کر دیا ہے یا کوئی اور بات ہوئی ہے۔آخر آدمی بھیجے گئے وہاں جو گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ میدانوں میں لاشیں ہی لاشیں پڑی ہوئی ہیں اور کوئی لشکر نظر نہیں آتا۔پستہ لیا تو طائف والوں نے بتایا کہ اُن میں بے تحاشا چیچک پھیلی۔وہ حبشی فوجیں تھیں اور حبشیوں میں چیچک پھیلتی ہے تو بالکل سیلاب کی طرح آتی ہے۔خصوصاً اُس زمانہ میں تو بیماریوں کے علاج ہی کوئی نہیں ہوتے تھے۔دیکھا کہ تمام میدان لاشوں سے اٹا پڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ بادشاہ کو بھی چیچک ہوئی اور لوگ اُس کو ڈولی میں ڈال کر یمن کی طرف لے گئے۔غرض اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کی حفاظت کی اور وہ جائداد پھر محفوظ کی محفوظ رہ گئی۔