انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 52 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 52

انوار العلوم جلد 25 52 سیر روحانی (8) کا مسئلہ اُسی شکل میں ٹھیک ہے جس طرح عوام الناس سمجھتے ہیں مگر یہ غلط ہے۔قرآن تقدیر اور قسمت کا مسئلہ اُس طرح بیان نہیں کرتا جس طرح کہ عام مسلمان اپنی ناواقفیت سے سمجھتے ہیں بلکہ قرآن کریم کے نزدیک تقدیر اور قسمت کے محض یہ معنے ہیں کہ ہر انسان کے لئے ایک قانون مقرر کر دیا گیا ہے کہ اگر وہ ایسا کام کرے گا تو اس کا یہ نتیجہ نکلے گا۔مثلاً اگر مرچیں کھائے گا تو زبان جلے گی، اگر ترشی کھائے گا تو نزلہ ہو جائے گا اور گلا خراب ہو جائے گا، اگر کوئی سخت چیز کھالے گا تو پیٹ میں درد ہو جائے گا یہ تقدیر اور قسمت ہے۔یہ تقدیر اور قسمت نہیں کہ فلاں شخص ضرور ایک دن سخت چیز کھائے گا اور پیٹ میں درد ہو جائے گا۔یہ جھوٹ ہے۔خدا ایسا نہیں کرتا۔قرآن اس سے بھرا پڑا ہے کہ یہ باتیں غلط ہیں۔پس یہ جو ہمیشہ سے لکھا ہوا ہونا ہے اس کا تقدیر اور قسمت سے کوئی تعلق نہیں اس لئے کہ تقدیر اور قسمت تب بنتی ہے جب خدا کے لکھے ہوئے کے ماتحت انسان کام کرے۔اگر یہ ضروری ہو کہ جو کچھ خدا نے لکھا ہے اُسی کے مطابق اس کو کام کرنا چاہئے تو پھر یہ جبر ہو گیا اور تقدیر اور قسمت ٹھیک ہو گئی لیکن جو قرآن سے تقدیر ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ خدا اس بات میں بندے کے تابع ہوتا ہے اور جو اس بندے نے کام کرنا ہوتا ہے خدا اسے لکھ لیتا ہے۔تقدیر اور قسمت تو تب ہوتی جب خدا مجبور کرتا اور یہ بندہ خدا کے جبر سے وہ کام کرتا۔لیکن واقعہ یہ ہے کہ بندہ وہ کام کرتا ہے اور خدا اس کے جبر کے ماتحت وہی بات لکھتا ہے جو اُس نے کرنی ہے۔اس لئے یہ تو تم کہہ سکتے ہو کہ لکھنے کے بارہ میں خدا پر وہ تقدیر حاوی ہے جو انسانوں پر قیاس کی جاتی ہے۔یہ تم نہیں کہہ سکتے کہ بندوں کی قسمت میں خدا نے جبر کر کے کوئی اعمال لکھے ہوئے ہیں۔عالم روحانی میں مُجرموں کے فیصلہ کی نقول پھر اس دنیا میں قاعدہ ہے کہ لوگ ریکارڈ کی کانی مانگتے ہیں۔انہیں خیال ہوتا ہے کہ ہم لوگوں کو دکھائیں گے اور غور کریں گے کہ یہ سزا ٹھیک ملی ہے یا نہیں ؟ اس غرض کے لئے لوگ ریکارڈ اور فیصلہ کی کاپی مانگتے ہیں اور اس کے بڑے فائدے ہوتے ہیں مگر اس دنیا کی گورنمنٹوں نے یہ طریق رکھا ہوا ہے کہ