انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 53 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 53

انوار العلوم جلد 25 53 سیر روحانی (8) وہ پیسے لے کر ریکارڈ دیتی ہیں۔جب کوئی نقل لینے آتا ہے تو کہتے ہیں پیسے داخل کر او مثلاً پندرہ روپے یا میں روپے یا پچیس روپے۔نقل نویسوں نے حرف گنے اور کہہ دیا کہ اتنے روپے داخل کرو تو ریکارڈ مل جائے گا۔پھر کہا کہ اگر جلدی نقل لینی ہے تو ڈبل یا تین گنا فیس دو۔میں نے دیکھا کہ آیا وہاں بھی کوئی نقل ملتی ہے یا نہیں ؟ اور آیا اُن کو تسلی ہو گی کہ گھر جا کر آرام سے بیٹھ کر دیکھیں گے کہ سزا ٹھیک ملی ہے ؟ جب میں نے غور کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہاں بھی نقلیں ملیں گی چنانچہ فرماتا ہے وَ أَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتْبَهُ بِشِمَالِهِ فَيَقُولُ يكيْتَنِي لَمْ أَوْتَ كِتَبِيَهُ وَلَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِيَهُ لِلَيْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِيَةَ - 1 یہاں تو کچھ دنوں کے بعد نقل ملتی ہے یا اگر جلدی لینی ہو تو وہ بھی تین چار دن میں ملتی ہے اور اس کے لئے کئی گنے زیادہ قیمت دینی پڑتی ہے مگر وہاں ادھر فیصلہ ہو گا اور اُدھر اگر وہ مُجرم ہے تو اس کے بائیں ہاتھ میں مفت نقل پکڑا دی جائے گی اور کہا جائے گا کہ یہ تمہارے اعمالنامہ اور فیصلہ کی نقل ہے اور یہ نقل مفت ملے گی کوئی پیسہ نہیں دینا پڑے گا۔فیصلہ کی نقل دینے کا فائدہ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس ریکارڈ کی نقل دینے کا زائد فائدہ کیا ہے ؟ سو یا درکھنا چاہئے کہ اس کا فائدہ یہ ہے کہ سزا ملنے پر انسان کم سے کم اپنی کا نشنس کو تسلی دیتا ہے کہ میر انجرم اتنا نہیں جتنا مجھے مجرم بنایا گیا ہے لیکن جب وہ ریکارڈ پڑھے گا تو اُسے معلوم ہو گا کہ جُرم سے کم ہی سزا ملی ہے زیادہ نہیں۔اُس وقت وہ کہے گا لَيْتَنِي لَم أَوتَ كِتَبِيَهْ - کاش ! یہ کتاب مجھے نہ دی جاتی تاکہ کم سے کم میری کانشنس تو تسلی پاتی کہ شاید میرے گناہ کچھ زیادہ سمجھ لئے گئے ہیں ورنہ میں اتنا مجرم نہیں مگر اس سے تو پتہ لگتا ہے کہ گناہ زیادہ ہیں اور سزا کم ہے۔وَلَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِیہ اور مجھے یہ نہ پتہ لگتا کہ میرا حساب کیا ہے کیونکہ حساب زیادہ بنتا ہے۔حساب بنتا ہے دو سو سال کی قید اور سزا دی ہے ایک سو پچاس کی۔میری کانشنس (CONSCIENCE) اُلٹا مجھے مجرم بناتی ہے کہ میں نے مُجرم بھی کئے، غداریاں بھی کیں، فریب بھی کئے پھر بھی سزا مجھے کم ملی۔مجھے پتہ نہ ہو تا کہ میر احساب کیا ہے تو میری کانشنس کو کچھ تسلی رہتی۔