انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 51

انوار العلوم جلد 25 51 سیر روحانی (8) صوبے اکٹھے ہوتے تھے۔اور وہ کیمبل پوریا میانوالی کے علاقہ میں یا شاید ڈیرہ غازیخان میں ای۔اے۔سی تھے۔وہ سنایا کرتے تھے کہ ایک شخص جو میرا دوست اور مجھ سے بہت ملنے والا تھا اُس کا میرے پاس کوئی مقدمہ تھا۔میں نے اُس کی دورے میں پیشی رکھی اور جہاں ہم تھے اُس سے وہ جگہ کوئی پچاس ساٹھ میل پر جاکے آئی۔چونکہ وہ میرا بے تکلف دوست تھا میرے پاس آیا اور کہنے لگا مرزا صاحب! مجھے آپ پر بڑا اعتبار تھا کیونکہ آپ دوست تھے لیکن خیر یوں تو آپ نے انصاف ہی کرنا ہے مگر کم سے کم میں آپ سے یہ تو امید کرتا تھا کہ آپ مجھے خراب تو نہ کریں گے۔اب آپ نے پچاس میل پر جاکے گواہی رکھی ہے میں یہاں سے گواہ کس طرح لے کے جاؤنگا۔میر اخرچ الگ ہو گا اور پھر ممکن ہے گواہ انکار کر دیں اور کہیں کہ ہم نہیں جاتے پھر میرے پاس کیا چارہ ہے؟ کہنے لگے میں نے اُس کو کہا کہ میں تو تمہیں عقلمند سمجھ کے تمہارے ساتھ دوستی کرتا تھا تم تو بڑے بیوقوف نکلے۔کہنے لگا کیوں؟ میں نے کہا تم بھی مسلمان اور گواہ بھی مسلمان۔تم کو پتہ نہیں کہ آٹھ آٹھ آنے میں گواہ مل سکتا ہے۔پھر یہاں سے گواہ لے جانے کا کیا سوال ہے؟ خیر وہ اُٹھ کر چلا گیا۔کہنے لگے جب ہم وہاں پہنچے تو پچاس میل پر جہاں کوئی شخص نہ اُس کی شکل جاننے والا اور نہ اس واقعہ کا علم رکھنے والا تھا وہاں گواہ آگئے جنہوں نے قرآن اُٹھایا ہوا تھا اور انہوں نے آکر کہا۔خدا کی قسم ! ہمارے ہاتھ میں قرآن ہے اور ہم سچ بولتے ہیں کہ یہ واقعہ ہوا ہے۔کہنے لگے واقعہ کے متعلق تو مجھے پتہ ہی تھا کہ سچا ہے پر یہ بھی پتہ تھا کہ یہ گواہ سارے کے سارے جھوٹے ہیں بہر حال میں نے اُس کے حق میں ڈگری دے دی اور پھر میں نے اُس کو کہا کہ میاں! اس میں تجھ کو گھبر اہٹ کس بات کی تھی۔آٹھ آٹھ آنے لے کر تو مسلمان گواہی دینے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔تو دیکھو اسلامی سزا کتنی کامل تحقیقات کے بعد ہوتی ہے کہ جس میں کوئی شائبہ بھی کسی قسم کے شبہ کا پیدا نہیں ہو تا۔مسئلہ تقدیر اور قسمت شاید کسی کے دل میں خیال آئے کہ میں نے جو کتاب ازلی کا ذکر کیا ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ تقدیر اور قسمت