انوارالعلوم (جلد 25) — Page 446
انوار العلوم جلد 25 446 قرون اولیٰ کی مسلمان خو چنانچہ ایسا ہی ہوا۔جب اسلامی لشکر عورتوں کے قریب پہنچا تو انہوں نے خیموں کے بانس نکال لئے اور اُن کی سواریوں کے مونہوں پر مارنے لگیں۔ہندہ نے بھی ایک بانس ہاتھ میں لیا اور ابو سفیان کی سواری کو مارا اور کہا بے حیا !جب مشرکین مکہ اسلام کے مقابلہ کے لئے جاتے تھے تو اُن کے لشکر کا کمانڈر ہوا کرتا تھا۔اب مسلمان ہونے کے بعد تجھے اسلام کی خاطر لڑنا پڑا ہے تو پیچھے بھاگ آیا ہے۔اسی طرح اس نے اپنے بیٹے کی سواری کو بھی بانس مارا اور اُسے بھی پیٹھ دکھانے پر ملامت کی۔ابو سفیان کی غیرت نے بھی جوش مارا اور اس نے اپنے بیٹے یزید سے کہا بیٹا ! واپس چلو ! عیسائیوں کا لشکر ہم سے بہت طاقتور ہے مگر اُن کے ہاتھوں مارا جانا بر داشت کیا جاسکتا ہے لیکن ان عورتوں کے ڈنڈے نہیں کھائے جاسکتے۔چنانچہ اسلامی لشکر واپس گیا اور پھر اللہ تعالیٰ نے اُسے فتح دے دی۔مردوں کو قربانی پر آمادہ کرو میں میں پس جیسا کہ میں نے بتایا ہے مردوں سے کام لینا بھی عورتوں کو آتا ہے۔وہ انہیں تحریک کر کے قربانی کے لئے آمادہ کر سکتی ہیں اور اس کی ہمارے ہاں بھی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔عورتوں نے اپنے مردوں کو تحریک کی اور انہوں نے قربانیاں کیں۔آخر دیکھ لو ہمارے کئی مبلغ ایسے ہیں جو دس دس پندرہ پندرہ سال تک بیرونی ممالک میں فریضہ تبلیغ ادا کرتے رہے اور وہ اپنی نئی بیاہی ہوئی بیویوں کو پیچھے چھوڑ گئے۔ان عورتوں کے اب بال سفید ہو چکے ہیں لیکن انہوں نے اپنے خاوندوں کو کبھی یہ طعنہ نہیں دیا کہ وہ انہیں شادی کے معابعد چھوڑ کر لمبے عرصہ کے لئے باہر چلے گئے تھے۔ہمارے ایک مبلغ مولوی جلال الدین صاحب شمس ہیں۔وہ شادی کے تھوڑا عرصہ بعد ہی یورپ تبلیغ کے لئے چلے گئے تھے۔اُن کے واقعات سُن کر بھی انسان کو رقت آجاتی ہے۔ایک دن اُن کا بیٹا گھر آیا اور اپنی والدہ سے کہنے لگا۔اناں ! ابا کسے کہتے ہیں ؟ سکول میں سارے بچے آتا انبا ہمیں پتہ نہیں کہ ہمارا اتنا کہاں گیا ہے ؟ کیونکہ وہ بچے ابھی تین تین چار چار سال کے ہی تھے کہ شمس صاحب یورپ تبلیغ کے لئے چلے گئے اور جب وہ واپس آئے تو وہ بچے 18،18،17،17 سال کے ہو چکے تھے۔اب دیکھ لو یہ اُن کی بیوی کی ہمت کا ہی نتیجہ تھا