انوارالعلوم (جلد 25) — Page 447
انوار العلوم جلد 25 447 قرون اولیٰ کی مسلمان خو کہ وہ ایک لمبے عرصہ تک تبلیغ کا کام کرتے رہے۔اگر وہ انہیں اپنی درد بھری کہانیاں لکھتی رہتی تو وہ یا تو خود بھاگ آتے یا سلسلہ کو مجبور کرتے کہ انہیں بلا لیا جائے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض عورتوں نے اس بارہ میں کمزوری بھی دکھائی ہے۔ان کے خاوندوں کو باہر گئے ابھی دو سال ہی ہوئے تھے کہ انہوں نے دفتر کو لکھنا شروع کیا کہ یا تو ہمارے خاوندوں کو واپس بلا دو یا ہم انہیں لکھیں گی کہ وہ کام چھوڑ کر آجائیں۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ساری عورتیں کمزور ہوتی ہیں۔اگر بعض عورتیں کمزور ہوتی ہیں تو بعض مرد بھی کمزور ہوتے ہیں۔کمزوری دکھانے میں عورتیں منفرد نہیں بلکہ مردوں میں سے بھی ایک حصہ کمزوری دکھا جاتا ہے۔غرض کمزوری کو دیکھو تو مرد اور عورت دونوں برابر ہیں اور اگر قوت کو دیکھو تو مرد اور عورت دونوں برابر ہیں۔عشق اور قربانی کو دیکھو تو دونوں برابر ہیں۔غیرت کو دیکھو تو دونوں برابر ہیں۔غرض کسی کام کو دیکھو جس ہمت سے اُسے مرد کر سکتے ہیں اُسی ہمت سے اُسے عورتیں بھی کر سکتی ہیں۔اس لئے عورت اپنے فرض کو پہچانے اور وہ مضبوطی سے اپنے ایمان پر قائم رہے تو کسی کی طاقت نہیں کہ وہ احمدیت کو کوئی نقصان پہنچا سکے۔یہی بات دیکھ لو کہ اگر موجودہ منافقوں کی بیویاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی عورتوں جیسا نمونہ دکھاتیں تو کیا اُن کو منافقت دکھانے کی جرات ہو سکتی تھی؟ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنگ کے لئے باہر تشریف لے گئے ایک صحابی اُس وقت موجود نہیں تھے انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کام کے لئے باہر بھیجا ہوا تھا۔وہ مدینہ آئے تو انہیں معلوم ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو ساتھ لے کر لڑائی کے باہر جاچکے ہیں۔وہ ایک لمبا عرصہ باہر رہے تھے انہیں اپنی بیوی سے جو نوجوان اور خوبصورت تھی بہت محبت تھی۔انہوں نے چاہا کہ گھر جاکر اس سے پیار کر لیں چنانچہ وہ گھر آئے۔ان کی بیوی کوئی کام کر رہی تھی۔وہ آگے بڑھے اور اُسے پیار کرنا چاہا اس نے انہیں دیکھتے ہی دھکا دے کر پیچھے پھینک دیا اور کہنے لگی تجھے شرم نہیں آتی خدا تعالیٰ کا رسول تو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر رومی حکومت سے لڑنے کے لئے گیا