انوارالعلوم (جلد 25) — Page 445
انوار العلوم جلد 25 445 قرون اولیٰ کی مسلمان خ میں دفن ہوئی اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ 1946ء میں یا اس سے پہلے فوت ہوئی ہو گی اور اب اس کی وفات پر دس بارہ سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔لیکن اس نے بچپن سے ہی اپنے بیٹے کے کان میں جو بات ڈالی تھی وہ اب بھی اس کے دل و دماغ سے نہیں نکلی۔وہ چھوٹا سا تھا جب اس نے اپنے بیٹے کے کان میں یہ بات ڈالنی شروع کی کہ میں نے تمہیں دین کی خاطر وقف کرنا ہے۔بعد میں وہ جوان ہوا، گریجوایٹ بنا اور پھر اس نے سل کا امریکن ڈاکٹروں سے علاج سیکھا اور اس کے بعد ایک اعلیٰ سرکاری عہدہ پر فائز ہوا۔لیکن اس کے ذہن سے یہ بات نہ نکلی کہ اس کی ماں کی یہ خواہش تھی کہ اس نے دین کی خاطر اپنی زندگی وقف کرنی ہے۔غرض عورت نہ صرف خود قربانی کر سکتی ہے بلکہ مر دوں کو بھی دین کی خدمت کے لئے تیار کر سکتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی بات ہے ایک دفعہ اسلامی لشکر کا مقابلہ عیسائی لشکر سے ہوا۔عیسائی لشکر زیادہ طاقتور تھا اور اسلامی لشکر کمزور تھا۔اس لئے وہ مقابلہ کی تاب نہ لا سکا۔نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان سپاہیوں کی سواریاں پیچھے کی طرف بھا گیں۔اس اسلامی لشکر کے کمانڈر یزید بن ابو سفیان تھے۔اور اُن کے باپ ابوسفیان بھی ان کے ساتھ تھے وہ بھی پیچھے کی طرف بھاگے۔فوج کے پیچھے عور تیں تھیں اور اُن عورتوں میں ابو سفیان کی بیوی ہندہ بھی تھی جو اسلام لانے سے پہلے اسلام کی اتنی دشمن تھی کہ ایک دفعہ جب جنگ میں حضرت حمزہ شہید ہوئے تو اُس نے اُن کا کلیجہ نکالنے والے کے لئے انعام مقرر کیا۔ہندہ نے جب دیکھا کہ اسلامی لشکر کے پاؤں اکھڑ چکے ہیں اور مسلمان سپاہی پیچھے کی طرف بھاگے آرہے ہیں تو اس نے عورتوں کو جمع کیا اور کہا تمہارے مردوں نے اسلام سے غداری کی ہے او روہ دشمن کے آگے بھاگ کھڑے ہوئے ہیں۔اب تمہارا کام ہے کہ تم انہیں روکو۔عورتوں نے کہا ہمارے پاس تو کوئی ہتھیار نہیں ہم انہیں کیسے روک سکتی ہیں۔ہندہ نے کہا خیمے توڑ دو اور بانس نکال لو اور جو سپاہی پیچھے آئے اس کی اونٹنی یا گھوڑے کو بانس مار مار کر پیچھے موڑ دو۔اور کہو بے حیاؤ واپس جاؤ دشمن سے لڑو۔اگر تم ایسا نہیں کر سکتے تو ہم عور تیں دشمن کا مقابلہ کریں گی۔