انوارالعلوم (جلد 25) — Page 444
انوار العلوم جلد 25 444 قرون اولیٰ کی مسلمان خو سکھوں اور ہندوؤں دیواروں پر چڑھ جاتیں جو حفاظت کی غرض سے بنائی گئی تھیں اور ان کو جو تلواروں اور بندوقوں سے اُن پر حملہ آور ہوتے تھے بھگا دیتی تھیں۔اور سب سے آگے وہ عورت ہوتی تھی جو بھیرہ کی رہنے والی تھی اور اُن کی سردار بنائی گئی تھی۔اب بھی وہ عورت زندہ ہے لیکن اب وہ بُڑھیا اور ضعیف ہو چکی ہے وہ عورتوں کو سکھاتی تھی کہ اِس اِس طرح لڑنا چاہئیے اور لڑائی میں ان کی کمان کرتی تھی۔غرض کوئی کام بھی ایسا نہیں جو عورت نہیں کر سکتی۔وہ تبلیغ بھی کر سکتی ہے ، وہ پڑھا بھی سکتی ہے ، وہ لڑائی میں بھی شامل ہو سکتی ہے اور اگر مال اور جان کی قربانی کا سوال ہو تو وہ ان کی قربانی بھی کر سکتی ہے اور بعض کام وہ مردوں سے بھی لے سکتی ہے۔مرد بعض دفعہ کمزوری دکھا جاتے ہیں اُس وقت جو غیرت عورت دکھاتی ہے وہ کوئی اور نہیں دکھا سکتا۔چند دن ہوئے میرے پاس ایک لڑکا آیا۔وہ جالند ھر کا رہنے والا تھا اور اس کا نانا وہاں پیر تھا اور احمدیت کا سخت مخالف تھا۔وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں فلاں کا نواسہ ہوں۔میں نے کہا میں تمہارے نانا کو جانتا ہوں اور مجھے یاد ہے کہ تمہاری ماں قادیان میں مجھے ملنے آیا کرتی تھی۔اُس نے کہا یہ بات درست ہے۔اب وہ فوت ہو چکی ہیں اور قادیان میں بہشتی مقبرہ میں دفن ہیں۔میں نے کہا اب تم کس طرح یہاں آئے ہو ؟ اس نے کہا میں ابھی بچہ ہی تھا کہ میری ماں میرے کان میں ہمیشہ یہ بات ڈالتی تھی کہ بیٹا! میں نے دین کی خدمت کے لئے تمہیں وقف کرنا ہے۔چنانچہ امریکن وفد جو پاکستان آیا تھا اس کے ذریعہ میں نے سل کے ٹیکے کا کام سیکھا اور اب میں ایک اچھے سرکاری عہدہ پر ہوں مگر میرے دل میں ہمیشہ یہ خیال رہتا ہے کہ میری والدہ کی یہ خواہش تھی کہ میں اپنی زندگی خدمت دین کے لئے وقف کر دوں۔میں نے اس بات کا اپنے باپ سے بھی ذکر کیا تو انہوں نے کہا میں تمہاری والدہ کی خواہش میں روک نہیں بننا چاہتا تم بڑی خوشی سے دین کی خاطر اپنی زندگی وقف کرو۔اب میں یہاں آیا ہوں کہ حضور میرا وقف قبول فرمائیں اور مجھے کسی دینی خدمت پر لگائیں۔اب دیکھو وہ عورت قادیان میں بہشتی مقبرہ