انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 443 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 443

انوار العلوم جلد 25 443 قرون اولیٰ کی مسلمان خو اب بھی وہ عورت زندہ ہے۔مشرقی پنجاب سے جو عورتیں پاکستان آئی تھیں ان میں سے ہزاروں ایسی ملیں گی جو لٹی لٹائی پاکستان پہنچی ہیں۔کئی جگہوں پر تو سکھوں نے اُن سے زیور اور دوسری چیزیں چھین لیں اور بعض جگہوں پر خود انہوں نے ڈر کے مارے اپنے زیور اور نقدی پھینک دی تاکہ اُن کے لالچ سے سکھ ان پر حملہ آور نہ ہوں اور وہ امن سے پاکستان پہنچ جائیں۔مگر اس عورت کا صرف ایک ہی زیور بچا اور وہ بھی اس نے اسلام کی خدمت کے لئے پیش کر دیا۔غرض اسلام میں عورتوں نے ہمیشہ سے قربانیاں کی ہیں اور اب بھی کرتی چلی جاتی ہیں اور اگلے جہان میں بھی اسلام نے عورتوں کے درجہ کو بلند کیا ہے۔چنانچہ اسلام کہتا ہے کہ جو عورت مومن ہو، نمازوں کی پابند ہو ، زکوۃ دیتی ہو ، ہم اُسے جنت میں اونچے مقام پر رکھیں گے۔عیسائی کہتے ہیں کہ اسلام میں عورت کی رُوح کو تسلیم نہیں کیا گیا۔میں جب یورپ گیا تو مجھ پر بھی ایک عیسائی نے یہی اعتراض کیا میں نے اُسے جواب دیا کہ یہ الزام بالکل غلط ہے اسلام عورت کے حقوق کو کلی طور پر تسلیم کرتا ہے بلکہ اُس نے روحانی اور اُخروی انعامات میں بھی عورت کو برابر کا شریک قرار دیا ہے۔اس پر اُس نے شرمندہ ہوتے ہوئے اس بات کو تسلیم کیا کہ حقیقت یہی ہے کہ اسلام پر جو الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ عورت میں رُوح کا قائل نہیں ، غلط ہے۔پس اسلام کی تاریخ ہی نہیں دوسرے مذاہب کی تاریخ سے بھی یہ بات ثابت ہے کہ عورتوں نے مذہب کی بہت بڑی خدمت کی ہے اور عور تیں وہ تمام کام کر سکتی ہیں جو مر د کر سکتے ہیں۔وہ تبلیغ بھی کر سکتی ہیں اور تاریخ بتاتی ہے کہ جب لڑائی کا موقع آیا تو وہ لڑائی بھی کرتی رہی ہیں۔جب قادیان میں ہندوؤں اور سکھوں نے حملہ کیا تو شہر کے باہر کے ایک محلہ میں ایک جگہ پر عورتوں کو اکٹھا کیا گیا اور ان کی سردار بھی ایک عورت ہی بنائی گئی جو بھیرہ کی رہنے والی تھی۔اس عورت نے مردوں سے بھی زیادہ بہادری کا نمونہ دکھایا۔ان عورتوں کے متعلق یہ خبریں آئی تھیں کہ جب سکھ اور ہند و حملہ کرتے تو وہ عورتیں ان