انوارالعلوم (جلد 25) — Page 441
انوار العلوم جلد 25 441 قرون اولیٰ کی مسلمان خو پھر اسی قسم کی فدائیت کی ایک اور مثال بھی تاریخوں میں ملتی ہے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُحد کے میدان سے واپس تشریف لائے تو مدینہ کی عور تیں اور بچے شہر سے باہر استقبال کے لئے نکل آئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی باگ ایک پرانے اور بہادر انصاری صحابی سعد بن معاذ نے پکڑی ہوئی تھی اور وہ فخر سے آگے آگے چلے آرہے تھے۔شہر کے پاس انہیں اپنی بُڑھیا ماں جس کی نظر کمزور ہو چکی تھی آتی ہوئی ملی۔اُحد میں اس کا ایک بیٹا بھی مارا گیا تھا۔اس بُڑھیا کی آنکھوں میں موتیا بند اُتر رہا تھا اور اس کی نظر کمزور ہو چکی تھی۔وہ عورتوں کے آگے کھڑی ہو گئی اور ادھر اُدھر دیکھنے لگی اور معلوم کرنے لگی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں؟ سعد بن معاذ نے سمجھا کہ میری ماں کو اپنے بیٹے کے شہید ہونے کی خبر ملے گی تو اُسے صدمہ ہو گا۔اس لئے انہوں نے چاہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے حوصلہ دلائیں اور تسلی دیں۔اس لئے جو نہی اُن کی نظر اپنی والدہ پر پڑی انہوں نے کہا، یارسول اللہ میری ماں ! یار سول اللہ میری ماں ! آپؐ نے فرمایا۔بی بی! بڑا افسوس ہے کہ تیرا ایک لڑکا اس جنگ میں شہید ہو گیا ہے۔بڑھیا کی نظر کمزور تھی اس لئے وہ آپ کے چہرہ کو نہ دیکھ سکی۔وہ ادھر اُدھر دیکھتی رہی آخر کار اس کی نظر آپ کے چہرہ پر ٹک گئی۔وہ آپ کے قریب آئی اور کہنے لگی یارسول اللہ ! جب میں نے آپ کو سلامت دیکھ لیا ہے تو آپ سمجھیں کہ میں نے مصیبت کو بھون کر کھالیا۔14 اب دیکھو وہ عورت جس کے بڑھایے میں عصائے پیری ٹوٹ گیا تھا۔کس بہادری سے کہتی ہے کہ میرے بیٹے کے غم نے مجھے کیا کھانا ہے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں تو میں اس غم کو بھون کر کھا جاؤں گی۔میرے بیٹے کی موت مجھے مارنے کا موجب نہیں ہو گی بلکہ یہ خیال کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں اور آپ کی حفاظت کے سلسلہ میں میرے بیٹے نے اپنی جان دی ہے میری قوت کو بڑھانے کا موجب ہو گا۔تو دیکھو عورتوں کی یہ عظیم الشان قربانی تھی جس سے اسلام دنیا میں پھیلا۔اس زمانہ میں بھی دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ عورتوں کی قربانیاں دین کی خاطر