انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 442 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 442

انوار العلوم جلد 25 442 قرون اولیٰ کی مسلمان خو کم نہیں ہیں۔1920ء میں میں نے جب مسجد برلن کے لئے چندہ کی تحریک کی تو جماعت کی عورتوں نے جو اُس وقت تعداد میں اتنی بھی نہیں تھیں جتنی تم یہاں بیٹھی ہو۔اپنے زیور اتار اتار کر رکھ دیئے اور کہا انہیں بیچ کر رقم حاصل کر لیں اور مسجد فنڈ میں دے دیں۔ہم غرض اُس وقت کی عورتوں نے اس قدر قربانی کی تھی کہ انہوں نے ایک ماہ کے اندر اندر ایک لاکھ روپیہ مسجد کے لئے جمع کر دیا او راس چیز کا غیروں پر گہرا اثر ہوا۔وہ جب بھی احمدیوں سے ملتے تو اس چیز کا ذکر کرتے اور کہتے کہ ہم پر اس چیز کا بہت اثر ہے۔اب تم اُن سے بہت زیادہ ہو۔اگر تم میں وہی ایمان پیدا ہو جائے جو 1920ء کی عورتوں کے اندر تھا تو تم ایک لاکھ نہیں پانچ لاکھ روپیہ ایک ماہ میں جمع کر سکتی ہو لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ایمان پیدا کیا جائے۔جب تقسیم ملک ہوئی اور ہم ہجرت کر کے پاکستان آئے تو جالندھر کی ایک احمدی عورت مجھے ملنے کے لئے آئی۔رتن باغ میں ہم مقیم تھے وہیں وہ آکر ملی اور اپنا زیور نکال کر کہنے لگی کہ حضور ! میرا یہ زیور چندہ میں دے دیں۔میں نے کہا بی بی ! عورتوں کو زیور کا بہت خیال ہوتا ہے تمہارے سارے زیور سکھوں نے لوٹ لئے ہیں یہی ایک زیور تمہارے پاس بچا ہے تم اسے اپنے پاس رکھو۔اِس پر اُس نے کہا حضور ! جب میں ہندوستان سے چلی تھی تو میں نے عہد کیا تھا کہ اگر میں امن سے لاہور پہنچ گئی تو میں اپنا یہ زیور چندہ میں دے دوں گی۔اگر سکھ باقی زیورات کے ساتھ یہ زیور بھی چھین کر لے جاتے تو میں کیا کر سکتی تھی۔اب میں بہر حال یہ زیور چندہ میں دُوں گی۔آپ مجھے اسے اپنے پاس رکھنے پر مجبور نہ کریں۔چنانچہ اس عورت نے اپنا زیور چندہ میں دے دیا۔اس تقریر کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ جب میں نے یہ تحریک کی تھی تو اُمم طاہر کی والدہ زندہ تھی۔انہوں نے اُسی وقت اپنی بیٹیوں اور بہوؤں کو بلایا اور کہا کہ سب زیور اُتار کر رکھ دو میں یہ سب زیور مسجد برلن میں چندہ کے طور پر دُوں گی چنانچہ و کر مسجد برلن کے چندہ میں دے دیا گیا۔