انوارالعلوم (جلد 25) — Page 440
انوار العلوم جلد 25 440 قرون اولیٰ کی مسلمان خو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مطمئن تھا اس لئے اس نے اُس عورت سے کہا۔بی بی! افسوس ہے کہ تمہارا باپ اس جنگ میں مارا گیا ہے۔اس پر اُس عورت نے کہا تم عجیب ہو۔میں تو پوچھتی ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے ؟ اور تم یہ خبر دیتے ہو کہ تیر اباپ مارا گیا ہے۔اس پر اُس صحابی نے کہا بی بی ! مجھے افسوس ہے کہ تیر اخاوند بھی اس جنگ میں مارا گیا ہے۔اس پر عورت نے پھر کہا میں نے تم سے اپنے خاوند کے متعلق دریافت نہیں کیا میں تو یہ پوچھتی ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟ اس پر اُس صحابی نے اُسے پھر کہا۔بی بی ! مجھے افسوس ہے کہ تیرا بھائی بھی اس جنگ میں مارا گیا ہے۔اُس عورت نے بڑے جوش سے کہا میں نے تم سے اپنے بھائی کے متعلق دریافت نہیں کیا۔میں تو تم سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھ رہی ہوں تم یہ بتاؤ کہ آپ کا کیا حال ہے ؟ جب لوگوں نے دیکھا کہ اُسے اپنے باپ، بھائی اور خاوند کی موت کی کوئی پروا نہیں، وہ صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خیریت دریافت کرنا چاہتی ہے تو وہ اس کے سچے جذبات کو سمجھ گئے اور انہوں نے کہا۔بی بی !رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو خیریت سے ہیں۔اس پر اُس نے کہا۔مجھے بتاؤ وہ کہاں ہیں؟ اور پھر دوڑتی ہوئی اُس طرف گئی جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے تھے اور وہاں پہنچ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو زانو ہو کر آپ کا دامن پکڑ کر کہنے لگی۔یارسول اللہ !میری ماں اور باپ آپ پر قربان ہوں جب آپ سلامت ہیں تو کوئی مرے مجھے کیا پروا ہے مجھے تو صرف آپ کی زندگی کی ضرورت تھی اگر آپ زندہ ہیں تو مجھے کسی اور کی وفات کا فکر نہیں۔13 اب دیکھو اس عورت کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کس قدر عشق تھا۔لوگ اُسے یکے بعد دیگرے باپ، بھائی اور خاوند کی وفات کی خبر دیتے چلے گئے لیکن وہ جواب میں ہر دفعہ یہی کہتی چلی گئی کہ مجھے بتاؤر سول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے ؟ غرض یہ بھی ایک عورت ہی تھی جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قدر عشق کا مظاہرہ کیا۔