انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 434 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 434

انوار العلوم جلد 25 434 قرون اولیٰ کی مسلمان خو حضرت خدیجہ نے کہا میں راضی ہوں اور میری طرف سے تمہیں اس بارہ میں بات کرنے کی اجازت ہے۔چنانچہ وہ عورت حضرت خدیجہ کے رشتہ داروں کے پاس گئی۔انہوں نے کہا اگر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) راضی ہو جائے تو ہمیں اس بات پر کوئی اعتراض نہیں۔پھر وہ عورت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اُس نے دریافت کیا کہ آپ شادی کیوں نہیں کرتے ؟ آپ نے فرمایا میرے پاس کوئی مال نہیں ہے جس سے میں شادی کروں۔اُس نے کہا اگر یہ مشکل دور ہو جائے تو پھر۔آپ نے فرمایا وہ کون عورت ہے ؟ اس نے کہا خدیجہ۔آپؐ نے فرمایا میں اُس تک کس طرح پہنچ سکتا ہوں ؟ اس نے کہا یہ میرے ذمہ رہا۔آپ نے فرمایا مجھے منظور ہے۔تب حضرت خدیجہ نے آپ کے چچا کی معرفت شادی کا پختہ فیصلہ کر لیا اور آپ کی شادی حضرت خدیجہ سے ہو گئی۔شادی کے بعد جب حضرت خدیجہ نے محسوس کیا کہ آپ کا حسّاس دل ایسی زندگی میں کوئی خاص لطف نہیں پائے گا کہ آپ کی بیوی مالدار ہو اور آپ اس کے محتاج ہوں تو انہوں نے ارادہ کر لیا کہ وہ اپنی تمام دولت آپ کی خدمت میں پیش کر دیں گی تا کہ جب اور جیسے آپ چاہیں اُسے خرچ کر سکیں۔چنانچہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا۔میرے چچا کے بیٹے ! (اُس وقت آپ ابھی رسالت کے منصب پر فائز نہیں ہوئے تھے اور عرب میں قاعدہ ہے جب بیویاں اپنے خاوند کو مخاطب کرتی ہیں تو چچا کا بیٹا کہا کرتی ہیں) میں اپنا سارا مال اور غلام آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتی ہوں۔آپ میری دلجوئی کریں اور میری اس پیشکش کو قبول فرمالیں۔آپ نے فرمایا خدیجہ امنہ سے بات کہہ دینا آسان ہوتا ہے مگر بعد میں اس پر قائم رہنا مشکل ہوتا ہے۔تمہیں پتہ ہے میں غلامی کا سخت مخالف ہوں اور تمہارے غلام ہیں اگر تم نے وہ سارے غلام میرے سپر د کر دیئے تو میں اُنہیں فوراً آزاد کر دوں گا۔اُس زمانہ میں بڑی جائیداد غلام ہی ہوتی تھی۔آپ نے فرمایا خدیجہ ! اگر میں نے تمہارے سب غلاموں کو آزاد کر دیا تو تم خفا تو نہیں ہو گی اور اپنے عہد پر قائم رہو گی؟ حضرت خدیجہ نے فرمایا آپ جس طرح چاہیں کریں مجھے کوئی اعتراض نہیں میں آپ کی خوشی میں ہی اپنی خوشی