انوارالعلوم (جلد 25) — Page 435
انوار العلوم جلد 25 435 قرون اولیٰ کی مسلمان خو محسوس کرتی ہوں۔چنانچہ آپ نے خانہ کعبہ میں لوگوں کو جمع کیا اور اعلان کیا کہ اے لوگو! گواہ رہو آج خدیجہ نے اپنا سارا مال مجھے دے دیا ہے اور مجھے اختیار دیا ہے کہ میں جیسے چاہوں استعمال کروں۔سو آج میں نے اس کے سب غلام آزاد کر دیئے ہیں اب وہ جہاں چاہیں جاسکتے ہیں۔گویا جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے مشن کے لئے روپیہ کی ضرورت تھی تو اس وقت وہ روپیہ ایک عورت نے ہی آپ کو مہیا کیا۔پھر آپ کو عبادت کا شوق ہوا تو آپ شہر سے تین چار میل دور ایک پہاڑی کی چوٹی پر پتھروں کی بنی ہوئی ایک چھوٹی سے غار میں جسے حرا کہتے ہیں عبادت کے لئے تشریف لے جاتے۔حضرت خدیجہ آپ کو تین چار دن کے لئے کھانا دے دیتیں جو ستوؤں اور بھجوروں پر مشتمل ہوتا تھا۔جب وہ ختم ہو جاتا تو آپ واپس آتے اور حضرت خدیجہ پھر تین چار دن تک کی خوراک دے دیتیں اور آپ حرا میں واپس تشریف لے جاتے۔پھر جب آپ پر پہلی وحی نازل ہوئی تو آپ بہت گھبر ائے۔آپ نے خیال کیا کہ انسان چاہے کتنی بھی کوشش کرے خدا تعالیٰ کا حق ادا نہیں کر سکتا۔کہیں ایسا نہ ہو کہ میں بھی خدا تعالیٰ کے حق کو ادا نہ کر سکوں او راس طرح اس کی ناراضگی کا مورد بنوں۔آپ حضرت خدیجہ کے پاس آگئے اور فرمایا۔خدیجہ ! آج جبریل آیا ہے اور اُس نے مجھے خدا تعالیٰ کا یہ حکم دیا ہے کہ جاؤ اور ساری دُنیا کو خُدائے واحد کی تبلیغ کرو لیکن میں ڈرتا ہوں کہ کہیں مجھ سے اس فرض کی ادائیگی میں کو تاہی نہ ہو جائے۔اس بات کو سنتے ہی فوراً حضرت خدیجہ نے کہا میرے چا کے بیٹے ! آپ گھبراتے کیوں ہیں۔گلا والله لا يُخْزِيْكَ اللهُ أَبَدًا إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَ تَحْمِلُ الْكَلَّ وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ وَ تَقْرِى الضَّيْفَ وَ تُعِيْنُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ خدا کی قسم ! یہ کلام خدا تعالیٰ نے اس لئے آپ پر نازل نہیں کیا کہ آپ ناکام و نامراد ہوں اور خدا تعالیٰ آپ کو رُسوا کر دے خدا تعالیٰ ایسا کب کر سکتا ہے۔آپ تو وہ ہیں کہ رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کرتے ہیں اور بے یارو مدد گار لوگوں کا بوجھ اُٹھاتے ہیں اور وہ اخلاق جو ملک سے میٹ چکے ہیں وہ آپ کی ذات کے ذریعہ دُنیا میں دوبارہ قائم ہو رہے ہیں۔مہمانوں کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور