انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 16

انوار العلوم جلد 25 16 سیر روحانی (8) جب وہ مجھے بھی ملا تھایا میں نے سنا تھا تو میں نے کہا سنا ہے آپ ڈپٹی کمشنر ہو گئے ہیں۔کہیں گے ہاں آپ کی دعا کے طفیل ڈپٹی کمشنر ہو گئے ہیں۔بندہ خدا! نہ تم نے میری شکل دیکھی ، نہ میں نے تمہارا نام سنا، نہ میں نے کبھی تمہارے لئے دعا کی، میری دعا کے طفیل تم کہاں ڈپٹی کمشنر بن گئے۔تو صرف عادت پڑی ہوئی ہے۔کوئی تعلق ہی نہیں ہو تا اور کہہ دیتے ہیں دعا کریں اور کہہ دیتے ہیں آپ کی دعا کے طفیل یہ ہوا۔حالانکہ نہ دعا اُس نے کروائی نہ اِس نے کی صرف ایسا کہنا ایک عادت ہے۔تو عادت کے طور پر بعض خیالات لوگوں پر غالب آ جاتے ہیں اور وہ ان کے ماتحت چلتے ہیں۔مثلاً کوئی بزرگ ہوں وہ کہیں گے سب کچھ تمہارے ہی اختیار میں ہے۔کوئی معاملہ ہو احمدی میرے پاس آجائیں گے اور مجھ سے وہ کام کرنے کا مطالبہ کریں گے۔مثلاً آئیں گے اور کہیں گے میر الڑ کا داخل ہونا ہے۔میں جواب دوں گا کہ ہیڈ ماسٹر سے کہیں مگر وہ جھٹ بولیں گے نہیں جی آپ کے اختیار میں ہے۔آپ نے ہی جو کرنا ہے کرنا ہے۔گویا ہیڈ ماسٹر بھی میں ہوں۔اسی طرح کوئی کلرک ہے تو میرے پاس آ جاتا ہے۔میں پوچھتا ہوں کیا ہے؟ کہتا ہے نظارت سے کہیں مجھے کلرک لے لیں۔میں جواب دیتا ہوں آپ انجمن سے کہیں وہ تمہارا انٹرویو کرے گی پھر وہ مختلف امید واروں میں سے کسی کا انتخاب کرے گی۔مگر اُس کا اصرار ہو گا کہ حضور ! حکم دے دیں سب کچھ آپ کا ہے۔انجمن کے ساتھ کوئی مالی جھگڑا ہو تو اُن کو میں کہتا ہوں جاؤ ناظروں سے فیصلہ کرو۔کہیں گے نہیں جی سب چیز آپ کے ہاتھ میں ہے ناظروں کا کیا تعلق ہے۔غرض وہ سارے کے سارے کاموں میں مجھے یہ سمجھتے ہیں کہ یہ گویا قادر الکل ہے۔شاید خدا تعالیٰ کو بھی اتنا قادر نہیں سمجھتے جتناوہ مجھے سمجھتے ہیں اور یہ ہٹ آج تک قائم ہے۔کہہ کہہ کر تھک گئے۔میاں یہ معاملات جن کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اُسی سے جاکر کہو لیکن وہ بھی کہیں گے کہ خلیفہ ہی سب کچھ کرے اور پھر یہ مرض بڑھتی چلی جاتی ہے۔پہلے تو یہ تھے کہ بچوں کا نام خلیفہ سے رکھوانا ہے۔ہم ان کے بھرے 2 میں آگئے اور نام رکھنے شروع کر دیئے۔پھر انہوں نے آگے قدم اٹھایا اور اذان دلوانے، نکاح پڑھوانے، بسم اللہ