انوارالعلوم (جلد 25) — Page 15
انوار العلوم جلد 25 15 سیر روحانی (8) معنی ہوتے ہیں وہ کارکن جو اس کو چلا رہے ہیں۔میں نے مدت سے آپ لوگوں کو توجہ دلائی ہے۔کبھی آپ نے دیکھا بھی کہ آپ کا مرکز ہے کیا؟ مرکز جماعت دو حصوں میں تقسیم۔ظاہری اور قانونی طور پر ایک مذہبی حصہ ہے اس کا ہیڈ خلیفہ ہے۔یہ میں نہیں کہہ سکتا کہ تم میں سے کسی کی رائے خلافت کے کام کے متعلق کیا ہو۔پر یہ میں ضرور کہہ سکتا ہوں کہ میں اس کا دفاع کرنے کے لئے ہر وقت تیار ہوں۔اور دوسرا حصہ اس کا انتظامی ہے۔اس کا تعلق صدر انجمن احمدیہ سے ہے اور وہ مجموعہ ہے کچھ ناظر وں کا۔اگر وہ ناظر کسی کام کے ہوں تو کام چلتا رہے گا۔اگر وہ ناظر کسی کام کے نہ ہوں تو وہ کام خراب ہو جائے گا۔میں یہ غلطی دیکھتا ہوں جماعت میں کہ وہی پرانی پیر پرستی اب تک چلی آرہی ہے۔ہم نے پیر پرستی کو دور بھی کیا، لوگوں کو آزاد بھی کیا مگر پھر بھی وہ ایسی حاوی ہے کہ وہ جو پیر پرست نہیں وہ اُن پر بھی حاوی ہے اور جو پیر پرست ہیں وہ ان پر بھی حاوی ہے۔پیر پرستوں پر تو ایسی حاوی ہے کہ لوگ مجھے ملنے آتے ہیں، سلام کرتے ہیں تو کئی سامنے سر جھکا دیتے ہیں۔وہ بیچارے تو سجدہ نہیں سمجھتے لیکن سر جھکا دیتے ہیں۔اور پیر پرستی پیر پرستی کے مخالفوں پر بھی اتنی حاوی ہے کہ کئی لوگ آتے ہیں وہ بیچارے ہاتھ پکڑ کر اس کو چومنا چاہتے ہیں تو پاس بیٹھا ہوا آدمی کہتا ہے نہیں نہیں سجدہ منع ہے۔اُس کے دماغ پر پیر پرستی اتنی حاوی ہوتی ہے کہ سجدہ ملاقات کرنے والے کے وہم میں بھی نہیں ہوتا اور یہ صاحب یو نہی ہاتھ بڑھا کر کہتے ہیں کہ نہیں نہیں یہ منع ہے حالانکہ وہ ممنوع کام کر ہی نہیں رہا ہو تا۔رسما دعا کیلئے کہتا اسی طرح یہ عادت پڑگئی ہے کہ جو شخص دوسرے کو ملتا ہے کہتا ہے جی دعا کریں اور در حقیقت اُس کے دل میں دعا کا جوش اتنا ہوتا ہی نہیں نہ اس کا مطلب ہوتا ہے کہ دعا کریں۔یہ رواج اتنا ہو گیا ہے کہ کئی غیر احمدی جن کی کبھی میں نے شکل بھی نہیں دیکھی۔فرض کرو وہ کبھی ملنے آئے اور بات شروع ہو گئی۔انہوں نے کہا پہلے میں یہ ہوتا تھا۔فرض کرو وہ ای۔اے۔سی تھا۔