انوارالعلوم (جلد 25) — Page 17
انوار العلوم جلد 25 17 سیر روحانی (8) کروانے کی خواہش کی۔کوئی ایک دو ہوں تو انسان یہ کام کرے در جنوں اور سینکڑوں کی اِس خواہش کو کس طرح پورا کرے۔اِس کے بعد اور ترقی ہوئی تو یہ درخواست شروع ہوئی کہ مکان کا نام رکھ دیں، دکان کا نام رکھ دیں۔پھر اس سے ترقی کی اور سکول کالج والوں نے ہر کھیل میں شمولیت کی درخواست شروع کر دی کہ برکت ہو گی۔ہر دعوتِ ولیمہ اور دعوت خوشی میں مدعو کرنا شروع کر دیا۔کوئی نہیں سوچتا کہ ایک خلیفہ تو یہ سارے کام بھی نہیں کر سکتا۔سلسلہ کے متعلق کام تو الگ رہے، تصانیف اور دفتری کام تو الگ رہے سر کہتے چلے جاؤ کوئی اس بات کو نہیں مانتا۔یہ عادت دور ہونی چاہئے۔آپ لوگوں کو اپنے دماغوں کی تربیت کرنی چاہیئے۔ایک آدمی ایک آدمی کا ہی کام کر سکتا ہے۔یہ بے شک ہو سکتا ہے کہ ایک آدمی میں کام کی قابلیت دوسروں سے زیادہ ہو۔تم اس سے یہ امید تو کر سکتے ہو کہ وہ عام آدمی سے زیادہ کام کر سکتا ہے مگر یہ نہیں کہ ایک آدمی سے انسانی طاقت سے زیادہ کام کی امید کرو۔اس سے زیادہ اگر آپ لوگ امید کریں گے تو نتیجہ یہ ہو گا کہ یا آپ کو ٹھو کر لگے گی یاوہ مرے گا۔جس کے سر پر اتنا بوجھ ڈالو گے جس کو وہ اٹھا نہیں سکتا وہ آخر ختم ہو جائے گا اور یا یہ ہے کہ آپ کو ٹھو کر لگے گی۔ہر شخص اگر آکر بیٹھ جائے کہ یہ میرا کام ہو جائے، یہ میراکام ہو جائے تو نتیجہ اِس کا یہی نکلے گا کہ وہ ایک دن گرے گا اور ختم ہو جائے گا۔تو یہ امید مت کریں کہ آپ کے دنیوی انتظام بھی خلیفہ کرے اور آپ کے دینی انتظام بھی خلیفہ کرے۔دنیوی کاموں کے لئے آپ کو بہر حال انجمن پر انحصار کرنا پڑے گا۔یہ بے شک ٹھیک ہے کہ وہ خلیفہ کے تابع ہیں۔جب لوگوں نے اعتراض کیا ہم نے کہا نہیں انجمن خلیفہ کے تابع ہے پس یہ ٹھیک ہے کہ وہ خلیفہ کے تابع ہیں لیکن اس لحاظ سے وہ تابع ہیں کہ آپ لوگ جو چندہ دیتے ہیں میرے مرید ہیں۔ورنہ میں انجمن کا ممبر نہیں۔مجھے انجمن پر قانونی کوئی اختیار نہیں۔پر مجھ سے ڈر کر اگر انجمن میری بات مانتی ہے تو باپ کی بیٹے مانا ہی کرتے ہیں۔وہ یہ جانتے ہیں کہ اگر اُنہوں نے میری بات نہ مانی (یعنی میں جب دخل دوں اور وہ نہ مانیں) تو میں اپنے مریدوں سے کہوں گا کہ ان کو چندہ نہ دو۔دیکھو تو اُسی دن انجمن سیدھی ہو