انوارالعلوم (جلد 25) — Page 316
انوار العلوم جلد 25 (5) احباب کے نام پیغام 316 منافقین کے تازہ فتنہ کے متعلق پیغامات و اعلانات برادران ! السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ جو نئے بیانات منافقت کا بھانڈا پھوٹنے کے سلسلہ میں احباب اوپر پڑھ چکے ہیں اب میں اسی سلسلہ میں کچھ باتیں کہنا چاہتا ہوں۔ ان بیانات کو پڑھ کر آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ ساری جماعت میں سے مومنانہ دلیری صرف حاجی نصیر الحق صاحب نے دکھائی ہے۔ ان کے بعد کسی قدر دلیری چو دھری اسد اللہ خاں صاحب نے دکھائی ہے۔ گو ان سے یہ غلطی ہوئی ہے کہ میں نے تو اپنے بعد صدر انجمن احمدیہ کا پریذیڈنٹ اور شخص کو بنایا تھا انہوں نے مندرجہ بالا بیانات امیر جماعت ربوہ کو بھیجوا دیئے حالانکہ یا وہ میرے پاس آنا چاہیئے تھے یا پریذیڈنٹ صدر انجمن احمد یہ ربوہ کے پاس جانے چاہیئے تھے۔ میاں بشیر احمد صاحب کا رویہ بھی نہایت بزدلانہ ہے۔ انہوں نے ایک لمبے عرصہ تک واقعات کو دبائے رکھا اور ایسے لوگوں کے کام سپر د کیا جو خود ملوث تھے۔ شاید میاں بشیر احمد صاحب اس بات سے ڈر گئے کہ عبد الوہاب صاحب نے یہ بھی کہا تھا کہ خلیفة المسیح الثانی کو معزول کر کے میاں بشیر احمد صاحب یا چو دھری ظفر اللہ خان صاحب کو خلیفہ بنا دینا چاہئے وہ زیادہ موزوں ہیں۔ انہوں نے سمجھا ہو گا کہ اگر یہ رپورٹیں میں نے بھجوا دیں تو سمجھا جائے گا کہ میں بھی عبد الوہاب صاحب کی سازش میں شریک ہوں تبھی انہوں نے مجھے خلیفہ بنانے کی تجویز پیش کی ہے۔ واقعات کو دبانے کی یہ کوئی وجہ نہیں تھی۔ کسی فارسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے آن را که حساب پاک است از محاسبه چه باک است بھائی تو اپنا معاملہ صاف رکھ پھر تجھے کسی کے محاسبہ کا کیا ڈر ہو سکتا ہے۔ پس اپنا معاملہ صاف ہوتے ہوئے انہیں یہ کیوں ڈر پیدا ہوا کہ مجھے عبد الوہاب کے ساتھ سازش میں شریک سمجھا جائے گا۔