انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 265 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 265

انوار العلوم جلد 25 265 سیر روحانی نمبر (9) اسی طرح ہمارے پرانے اطباء لکھتے ہیں کہ آم اور پھر خاص قسم کے آموں کا شہد لیا جائے تو وہ دل کی تقویت کا موجب ہوتا ہے۔اسی طرح بعض اور امراض میں بھی مفید ہو تا ہے۔تو شہد بے شک مفید ہے لیکن قرآن کریم فرماتا ہے کہ شہد کے فوائد کا صرف اُسی کو پتہ لگے گا جو تفکر کر نیوالا ہے۔مطلب یہ ہے کہ مختلف شہد مختلف بیماریوں کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔یہ علم طب کا کتنا عظیم الشان باب ہے جو قرآن کریم کی ایک چھوٹی سی آیت کے ذریعہ کھول دیا گیا ہے۔علیم ہندسہ کی نہر پھر علیم ہندسہ کو بھی قرآن کریم نے بیان کیا ہے چنانچہ فرماتا ہے هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءَ وَ الْقَمَرَ نُورًا وَ قَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السّنِينَ وَالْحِسَابَ - 25- یعنی خدا تعالیٰ نے سورج کو ذاتی روشنی والا اور قمر کو نور والا بنایا ہے اور اُن کی کئی منازل مقرر کی ہیں۔وہ اپنے اپنے منازل میں چلتے ہیں تا کہ تم کو سالوں اور حساب کا علم ہو۔گویا اس ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے علم حساب کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔پھر فرماتا ہے الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانِ وَ النَّجْمُ وَ الشَّجَرُ يَسْجُدُنِ _ 26 یعنی سورج اور چاند ایک مقررہ قاعدہ اور قانون اور حساب کے ماتحت چل رہے ہیں اور جڑی بوٹیاں اور درخت بھی خدا تعالیٰ کے آگے سر نگوں ہیں۔ادب کی نہر اسی طرح علم ادب کی طرف بھی قرآن کریم نے توجہ دلائی ہے۔فرماتا ہے وَ لَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّمَا يُعَلِّمُهُ بَشَرٌّ لِسَانُ الَّذِي يُلْحِدُونَ إِلَيْهِ أَعْجَيِيٌّ وَهُذَا لِسَانُ عَرَبِى مين 27 یعنی ہم خوب جانتے ہیں کہ یہ کفار کہتے ہیں کہ یہ ایک ایسا انسان ہے جسے کسی اور شخص نے سکھایا ہے قرآن اِس کا اپنا نہیں۔فرماتا ہے جس شخص کی طرف وہ یہ بات منسوب کرتے ہیں وہ تو عجمی ہے وهذا لِسَانُ عَرَبِي مُبِین اور یہ کلام عربی زبان میں ہے اور اس میں جو بات بھی کہی گئی ہے اس کی دلیل دی گئی ہے۔اگر یہ جھوٹ ہے تو جھوٹ کی تائید میں تو دلیل نہیں ہوا کرتی۔اور اگر کہو کہ عجمی نے سکھایا ہے تو محمد رسول اللہ تو عربی کے سوا کچھ جانتا نہیں۔اور اگر کہو کہ عربی نے سکھایا ہے تو قرآن کریم کی صرف عربی معجزہ نہیں بلکہ قرآن کا عربی مُّبِينٌ