انوارالعلوم (جلد 25) — Page 264
انوار العلوم جلد 25 264 سیر روحانی نمبر (9) علیم طب کی نہر چو تھا علم طب ہے جس کی طرف قرآن کریم میں توجہ دلائی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يَخْرُجُ مِنْ بُطُونِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهُ فِيهِ شِفَاءُ لِلنَّاسِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ۔24 یعنی شہد کی مکھیوں کے پیٹ میں سے مختلف قسم کے شہر نکلتے ہیں اور اُن کے کئی رنگ ہوتے ہیں اور ہر قسم کا شہد کسی خاص بیماری کے لئے مفید ہو تا ہے۔مگر فر ما یا اِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ۔یہ نہیں فرمایا کہ جو ہماری اس بات کو مان کر کسی کو شہد پلا دے اُس کو فائدہ پہنچ جاتا ہے بلکہ فرمایا کہ ہم نے صرف ایک اشارہ کیا ہے آگے تمہیں خود غور کرنا پڑے گا۔چنانچہ اب اس کی تحقیقات ہوئی ہے اور پتہ لگا ہے کہ شہد کی مکھی جس قسم کے درختوں سے شہد لیتی ہے اُسی قسم کا فائدہ اُس شہد سے پہنچتا ہے۔مثلاً بعض جگہ شہد کی مکھی ایسے درختوں سے شہد لیتی ہے جن میں جلاب کا مادہ ہو تا ہے۔وہ شہد کھا ؤ تو جلاب لگ جاتے ہیں۔بعض ایسی بوٹیوں سے لیتی ہیں جو ملیریا کو دُور کرنے والی ہوتی ہیں وہ شہد کھاؤ تو ملیریا کو فائدہ پہنچتا ہے۔غرض مختلف قسم کے شہد مختلف قسم کی بیماریوں کا علاج ہیں۔اسی لئے قرآن کریم نے یہ نہیں فرمایا کہ شہد میں فائدہ ہے بلکہ فرمایا ہے اِنَّ فِي ذلِكَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ۔ہم نے تو اشارہ کر دیا ہے اب یہ تمہارا کام ہے کہ تم تحقیقات میں لگو۔اگر تم غور کرو گے تو تمہیں معلوم ہو گا کہ مختلف رنگ کے شہد مختلف امراض کا علاج ہیں۔چنانچہ جب میں علاج کے سلسلہ میں لندن گیا تو ایک بڑے خاندان کی ایک اُستانی تھیں، لارڈارون جو ہندوستان کے وائسرائے رہ چکے ہیں اُن کی ماں سے اُس کی ماں کی بڑی دوستی تھی۔کہتی تھی کہ اُس کے کئی خط میرے پاس اب تک پڑے ہیں۔ایک دن وہ شہد لے کر آئی جو خاص بُوٹیوں میں سے نکلا ہوا تھا اور کہنے لگی یہ شہد آپ استعمال کریں یہ آپ کے لئے بہت مفید ہے۔میں نے کہا۔مجھے تو شہد موافق نہیں۔کہنے لگی آسٹریلین شہر تو معلوم نہیں کیس کیس چیز کا ہو تا ہے مگر یہ تو ہمارے ہاں بعض لوگ خاص طور پر اُن بوٹیوں سے بناتے ہیں جو امراض کے علاج میں خاص طور پر مفید ہیں۔