انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 266 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 266

انوار العلوم جلد 25 266 سیر روحانی نمبر (9) ہونے میں معجزہ ہے۔یعنی اس کی زبان ایسی ہے کہ اس کے اندر دلائل بھی بیان کئے گئے ہیں اور بتایا گیا ہے کہ ہم کیوں حکم دیتے ہیں ، خدا کو کیوں منواتے ہیں، فرشتوں کو کیوں منواتے ہیں، رسولوں کو کیوں منواتے ہیں، جھوٹ سے کیوں منع کرتے ہیں، سچ کی کیوں تائید کرتے ہیں، ظلم سے کیوں روکتے ہیں، انصاف کی کیوں تائید کرتے ہیں۔غرض یہ عَرَبِيٌّ مُّبِین میں ہے اور اپنے احکام کی دلیلیں بھی دیتا ہے۔جھوٹا آدمی دلیلیں کہاں سے لے آئے گا۔پس تمہاری دونوں باتیں غلط ہیں۔تم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ اسے کسی عجمی نے سکھایا ہے کیونکہ محمد رسول اللہ تو مجھی نہیں یہ تو عربی ہے اس کو تو کسی اور زبان کا پتہ ہی نہیں۔اور تم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ اسے کسی عربی نے سکھایا ہو کیونکہ اگر کسی عربی نے سکھایا ہو تو بہر حال قرآن جھوٹ تو ہوا۔اور اگر قرآن جھوٹا ہو گا تو اس میں دلیلیں کہاں سے آجائیں گی حالانکہ تم جانتے ہو کہ یہ کلام مبین ہے۔مبین کے معنے ہوتے ہیں ظاہر کرنے والی۔یعنی جو بات بھی کہتی ہے اُسکو کھول کر رکھ دیتی ہے اور اُس کی معقولیت کے دلائل دیتی ہے۔علیم معانی کی نہر پھر علیم معانی کی طرف بھی اُس نے توجہ دلائی ہے۔معانی کے معنے ہوتے ہیں موقع کے مطابق کلام بیان کرنا۔جو کتاب موقع کے مطابق ہر بات بیان کرے اور کسی مرحلہ پر بھی کسی بے موقع بات کا اُس میں ذکر نہ ہو اُس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ علم معانی کے مطابق ہے۔قرآن کریم بھی کہتا ہے کہ اس کتاب میں علم معانی موجود ہے چنانچہ فرماتا ہے کہ اِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَلْنَا عَلَى عَبْدِنَا۔28 اگر تم کو ہماری اس تعلیم پر جو ہم نے قرآن میں نازل کی ہے کچھ شبہ ہے تو فَاتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ 22 تم اِس قسم کی کوئی اور سورۃ پیش کرو۔وَادْعُوا شُهَدَاكُمْ مِنْ دُونِ الله إن كُنتُم صدِقِينَ۔30 اور اپنے غیر اللہ مدد گاروں کو بھی اپنی مدد کے لئے بلالو اگر تم سچے ہو۔مگر وہ ایسا کبھی نہیں کر سکتے اسلئے کہ وہ جو بات بھی کریں گے چونکہ جھوٹ کی تائید میں ہو گی اس لئے کبھی موقع کے مطابق نہیں ہو گی محض اوٹ پٹانگ بات کریں گے مگر قرآن جو بات بھی کرے گا موقع کے مطابق ہو گی۔