انوارالعلوم (جلد 25) — Page 218
انوار العلوم جلد 25 218 متفرق امور انہوں نے حوالے دیئے۔جس پر اس نے ایک رسالہ لکھا اور اسے شائع کیا۔مولوی عبد الواحد صاحب انڈو نیشین مبلغ عربی پڑھنے کے لئے دمشق گئے تھے وہاں سے آتے ہوئے وہ تہران میں ٹھہرے تو انہوں نے بتایا کہ میں تہران میں انڈو نیشین ایمبیسیڈر سے ملنے گیا۔وہ مرزار فیع احمد کی بڑی تعریف کرتا تھا کہ میں نے بہائیوں کے متعلق ان کا مضمون پڑھا ہے نہایت عمدہ رڈ کیا ہے۔اور کہتا تھا کہ چونکہ میں یہاں ایسے علاقہ میں ہوں جہاں بہائیوں کا زور ہے اِس لئے اِس مضمون کو پڑھ کر مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ بس بہائیوں کا منہ بند ہو گیا۔تو ہمارے بچے بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے سلسلہ کی کتابیں پڑھ کے ایسا علم حاصل کر لیتے ہیں کہ ان کو بڑے سے بڑے دشمن کے مقابلہ کی توفیق مل جاتی ہے۔پس یہاں آنے کی عادت ڈالو۔یہ باتیں چھوڑ دو کہ جلسہ پر آئے ایک دو دن رہے اور چلے گئے۔جو دور ہیں وہ تو مجبور ہیں۔مثلاً ہندوستان سے آنے والے خواہش رکھتے ہیں تو بعضوں کو پاسپورٹ ہی نہیں ملتا۔یا بہت دور دور کے علاقہ کے لوگ ہیں۔مثلاً اب ماریشس سے بعض ایسے دوست آئے ہیں جو میری جوانی میں احمدی ہوئے تھے۔بڑی خواہش کے بعد اب ان کو یہاں آنے کی توفیق ملی ہے مگر پھر کچھ ایسے حادثات ہو گئے کہ وہ جلدی واپس جارہے ہیں۔ان میں سے ایک نوجوان احمد ید اللہ ہیں۔وہاں جماعت میں کچھ فتنہ ہے۔دوست ان کے لئے بھی دعا کریں۔انہوں نے اپنی زمین میں سے کچھ زمین شہر کے پاس مسجد کے لئے دے دی ہے جہاں اب مسجد بنائی جائے گی۔دوست دعا کریں کہ جس طرح انہوں نے خدا کا گھر بنانے کے لئے قربانی کی ہے اللہ تعالیٰ ان کا بھی گھر بنائے۔آمین ایک طریق چندہ بڑھانے کا یہ بھی ہے کہ تحریک جدید کی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی طرف سے کچھ چیزیں بنائی جاتی ہیں۔ہمارے احمدی دوست ان کو خریدیں اور دوسرے دکانداروں کو تحریک کریں کہ وہ بھی خریدیں۔اس طریق سے بھی بہت سا نفع آ جائے گا۔مثلاً تحریک نے ایک بوٹ پالش ایجاد کی ہے جس کا نام "شائینو بوٹ پالش " ہے۔وہ